کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 70 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جمعے کے روز ملبے سے مزید انسانی باقیات ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 71 ہو گئی ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق، اب تک 71 جاں بحق افراد کی فہرست جاری کی جا چکی ہے، جن میں سے 16 افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شناخت کے لیے 49 ڈی این اے نمونے لیے گئے تھے، جن میں سے 9 افراد کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی ہے۔
یہ خوفناک آگ 17 جنوری کی رات گل پلازہ میں لگی تھی، جسے مکمل طور پر بجھانے میں تقریبا دو دن لگے۔ آگ کے نتیجے میں گراؤنڈ پلس تین منزلہ عمارت بری طرح تباہ ہو گئی، جبکہ عمارت کے بعض حصے منہدم بھی ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کے مختلف حصوں سے لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم حتمی تعداد کا تعین تمام باقیات کی شناخت مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ سرچ آپریشن آج مکمل کر لیا جائے گا۔
جنوبی ضلع کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو آپریشن آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور ملبے کی مکمل تلاشی آج مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 77 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں تھیں اور سرچ آپریشن سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے۔
سندھ ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر (ر) واجد سبغت اللہ مہر نے بتایا ہےکہ عمارت کے تقریبا 10 سے 15 فیصد حصے تک پہلے رسائی ممکن نہیں ہو سکی تھی، جہاں اب بھی تلاش کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق، خدشہ ہے کہ گراؤنڈ فلور تک مکمل رسائی نہ ہونے کے باعث وہاں مزید لاشیں مل سکتی ہیں، کیونکہ آگ کا آغاز اسی حصے سے ہوا تھا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ ایک پھولوں کی دکان میں لگی، جہاں سے یہ ڈکٹ کے ذریعے تیزی سے پھیل گئی، تاہم پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آگ اتنی تیزی سے کیوں پھیلی۔
ادھر سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بھی آج صوبائی اسمبلی میں اس افسوسناک واقعے پر ارکان کو بریفنگ دی، جس میں کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے