امریکا کا عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کا اعلان

امریکہ نے عالمی ادارہ صحت (WHO) سے باضابطہ طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ادارے کو فنڈنگ اور شراکت داری کے تمام وسائل بند کر دیے گئے ہیں۔ امریکہ نے اپنے تمام نمائندوں اور کنٹریکٹرز کو عالمی دفاتر سے واپس بلا لیا ہے اور ادارے کے ساتھ سینکڑوں منصوبوں میں شراکت ختم کر دی ہے۔

امریکی حکام کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ ادارے کی جانب سے کووڈ-19 کے دوران مبینہ طور پر چین کے حق میں کام کرنے، اصلاحات نافذ نہ کرنے اور بعض ممالک کے سیاسی اثرات کے سبب کیا گیا ہے۔ امریکہ نے 2024 اور 2025 کے لیے WHO کو واجب الادا فنڈز بھی ادا نہیں کیے، جس سے عالمی ادارے میں ملازمتوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بقایاجات کی رقم تقریباً 260 ملین ڈالر بنتی ہے، تاہم امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ اسے ادا کرنے کے لیے کوئی وجہ نہیں دیکھتے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل تدروس ادھانوم گھیبریسوس نے امریکہ کے اس فیصلے کو نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام نہ صرف امریکہ بلکہ بین الاقوامی کمیونٹی کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے عالمی ادارے کے پولیو، ایچ آئی وی/ایڈز، ماں کی اموات اور تمباکو کنٹرول کے منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اب امریکہ اپنی شمولیت کو صرف اس حد تک محدود کرے گا کہ ادارے سے دستبرداری کے اثرات کو منظم کیا جا سکے اور امریکی شہریوں کی صحت کی حفاظت کی جا سکے۔ بیماریوں کی نگرانی اور حیاتیاتی نمونوں کے اشتراک کے لیے امریکہ دیگر ممالک کے ساتھ دو طرفہ شراکتیں جاری رکھے گا، جبکہ WHO کے ساتھ براہِ راست تعلقات محدود ہوں گے۔

عالمی ادارہ صحت نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے گا، کیونکہ عالمی تعاون نے بے شمار جانیں بچائیں اور دنیا بھر کی آبادیوں کی حفاظت کی۔ اس معاملے پر WHO کا بورڈ اجلاس 2 سے 7 فروری تک منعقد ہوگا

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں