امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ کا آغاز ، عالمی رہنماؤں نے چارٹر پر دستخط کردیے

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاؤوس میں عالمی رہنماؤں پر مشتمل ایک تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘بورڈ آف پیس’ کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے، جس کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری غیر مستحکم جنگ بندی کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس بورڈ کو عالمی سطح پر بھی ایک وسیع کردار ادا کرنا چاہیے، جس پر دیگر عالمی طاقتوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ جب یہ بورڈ مکمل طور پر قائم ہو جائے گا تو ہم تقریبا ہر کام کر سکتے ہیں، اور یہ اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے پاس بہت زیادہ صلاحیت موجود ہے جس کا مکمل استعمال نہیں ہوا۔

ٹرمپ خود اس بورڈ کے چیئرمین ہوں گے اور انہوں نے درجنوں دیگر عالمی رہنماؤں کو بھی مدعو کیا ہے تاکہ بورڈ غزہ کی جنگ بندی سے آگے بڑھ کر عالمی چیلنجز کا بھی سامنا کر سکے۔ تاہم، بعض مغربی ممالک اور روایتی امریکی اتحادی اس اقدام پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

بورڈ کے مستقل ارکان سے ہر ایک سے 10 کروڑ ڈالر کی مالی شراکت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بورڈ میں شامل امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ بورڈ کا بنیادی مقصد غزہ امن منصوبے کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنانا ہوگا، لیکن یہ دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک نمونہ قائم کر سکتا ہے۔

ٹرمپ کے داماد اور امریکی غزہ مذاکرات کار جیرڈ کوشنر نے کہا کہ بورڈ کی اگلی کوششیں غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور حماس کے اسلحہ کی واپسی پر مرکوز ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حماس عسکری طور پر غیر مسلح نہ ہوئی تو یہ منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہو گی۔

بورڈ میں پاکستان، ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہوئے ہیں، جبکہ روس نے اس تجویز کا جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ 10 کروڑ ڈالر کی مالی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ فرانس نے شامل ہونے سے انکار کر دیا اور برطانیہ نے بھی فی الحال بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا۔

چین نے ابھی تک شمولیت کے حوالے سے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا۔اس بورڈ کے قیام کی منظوری اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت دی تھی۔اقوامِ متحدہ کے ترجمان رولانڈو گومیز نے کہا کہ بورڈ کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی شمولیت صرف اسی تناظر میں ہوگی۔

واضح رہے کہ غزہ میں جنگ بندی اکتوبر میں ہوئی تھی، مگر اس کے بعد بھی غزہ کے خلاف اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔

اس بورڈ میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، روبیو، جیرڈ کوشنر اور دیگر امریکی مذاکرات کار بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے، جبکہ فلسطینی دھڑوں نے ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کی اور ایک عبوری کمیٹی کی تشکیل دی جو بورڈ کی نگرانی میں غزہ پر حکمرانی کرے گی۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں