پاکستانی ٹی وی اداکارہ اور میزبان مدیحہ امام نے بھارت میں کام کرنے کے امکان پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ فن اور تخلیق کو سرحدوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، تاہم ایسے فیصلے کرتے وقت حالات اور حساس پہلوؤں کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنکار کے لیے پوری دنیا ایک کینوس کی طرح ہونی چاہیے، جہاں وہ خود کو آزادانہ طور پر ظاہر کر سکے۔
مدیحہ امام نے یہ خیالات ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کے دوران پیش کیے، جہاں ان سے مستقبل میں بھارت میں کام کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر اداکاروں کو دنیا کے کسی بھی حصے میں کام کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، لیکن سرحد پار منصوبے ہمیشہ حساس نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ضروری ہے۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ تخلیقی صلاحیتوں کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے، کیونکہ فن انسانوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ حالات اور زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے ہر قدم احتیاط کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔
اس گفتگو کے دوران میزبان فیصل قریشی نے بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سیاسی تنازعات کے باوجود دنیا کے مختلف ممالک کے فنکار ایک دوسرے کے ہاں کام کرتے رہے ہیں، جو اس بات کی مثال ہے کہ فن اختلافات سے بالاتر ہو سکتا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں مدیحہ امام نے بھارتی اداکارہ ودیا بالن کا نام لیا اور کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ انہیں پاکستان مدعو کرنا چاہیں گی۔ ان کے مطابق ودیا بالن جیسی باصلاحیت اداکارہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک قیمتی اضافہ ثابت ہو سکتی ہیں