‘ٹیرف جنگیں اور تجارتی جنگیں کسی کے لیے فائدہ مند نہیں’، امریکی صدر کا ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر فوری 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہےکہ وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی بھی ملک سے آنے والی اشیاء پر فوری طور پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں چین، بھارت، روس، ترکی اور عراق سمیت درجنوں ممالک سے آنے والی مصنوعات پر امریکی درآمد کنندگان کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

صدر نے یہ اعلان ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں کیا، جس میں اس تجارتی اقدام کو ‘حتمی اور فیصلہ کن’ قرار دیا گیا، تاہم اس میں اہم تفصیلات شامل نہیں تھیں۔ یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا یہ نیا ٹیرف پہلے سے عائد درآمدی ٹیکسوں کے علاوہ ہوگا یا نہیں۔

تجارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ غالبا 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ پر انحصار کر رہے ہیں، جسے وہ گزشتہ سال اپنے بیشتر وسیع ٹیرف اقدامات نافذ کرنے کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔ ان اقدامات کے خلاف قانونی چیلنجز اس وقت سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہیں، اور ان کی قانونی حیثیت پر فیصلہ بدھ تک متوقع ہے۔

عام طور پر ٹیرف ایک وقفے کے بعد نافذ کیے جاتے ہیں تاکہ درآمد کنندگان کو نئی بھاری فیس سے بچنے کے لیے اپنے منصوبوں میں تبدیلی کا وقت مل سکے۔ تاہم فوری طور پر نافذ ہونے والے ٹیرف بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ متاثرہ ممالک سے آنے والی بہت سی اشیا پہلے ہی امریکہ کی جانب سمندر میں روانہ ہو چکی ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کیے گئے کریک ڈاؤن کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔

اس اعلان پر چین نے اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ واضح رہے کہ اس وقت چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ چین ٹیرف کے اندھا دھند استعمال کی ہمیشہ مخالفت کرتا آیا ہے اور اس حوالے سے اس کا مؤقف واضح اور مستقل رہا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیرف کی جنگیں اور تجارتی محاذ آرائیاں کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق دباؤ اور جبر مسائل کا حل نہیں جبکہ تحفظ پسندی ایسے اقدامات ہیں جو بالآخر تمام فریقوں کے مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں