ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پروبائیوٹکس اور سبزیوں سے بھرپور غذا آہستہ آہستہ بڑھنے والے پروسٹیٹ کینسر کی پیش رفت کو سست کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق متوازن غذا نہ صرف مجموعی صحت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ بعض اقسام کے کینسر پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
اس تحقیق کا مقصد آنتوں کی صحت اور پروسٹیٹ کینسر کے درمیان تعلق کو سمجھنا تھا۔ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا مفید بیکٹیریا پر مشتمل پروبائیوٹکس اور فائٹو کیمیکلز سے بھرپور غذائیں، جیسے سبز پتوں والی سبزیاں اور بیریز، کینسر کی بڑھوتری کو متاثر کر سکتی ہیں۔
تحقیق میں شامل افراد کو مختلف قدرتی اجزاء سے تیار کردہ غذائی سپلیمنٹس دیے گئے، جن میں بروکلی، ہلدی، انار، سبز چائے، ادرک، کرین بیری اور خاص طور پر تیار کردہ لیکٹوبیسیلس پروبائیوٹکس شامل تھے۔ نتائج کے مطابق 90 فیصد سے زائد مردوں میں یا تو بیماری کی شدت میں کمی دیکھی گئی یا پھر کینسر کی بڑھوتری رک گئی۔
تحقیق کے مطابق یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں واضح شواہد ملے ہیں کہ آنتوں میں مفید بیکٹیریا کا توازن برقرار رکھنے سے پروسٹیٹ کینسر کی نشوونما کی رفتار کو کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق گٹ ہیلتھ کینسر کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق امید افزا ہے، تاہم پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کو علاج کے لیے صرف غذا پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ماہر ڈاکٹروں کے مشورے سے ہی کوئی بھی غذائی یا طبی تبدیلی اختیار کرنی چاہیے