زیادہ نیند، لمبی زندگی؟ نئی تحقیق نے اہم انکشاف کر دیا

ایک نئی عالمی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اچھی اور پوری نیند لینا لمبی اور صحت مند زندگی کے لیے نہایت اہم ہے، اور بعض صورتوں میں یہ باقاعدہ ورزش سے بھی زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں روزمرہ معمولات اور صحت کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق انسان دن کا وقت جس طرح نیند، جسمانی سرگرمی اور بیٹھے رہنے میں تقسیم کرتا ہے، اس کا براہِ راست اثر اس کی مجموعی صحت اور عمر پر پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ورزش کرنا کافی نہیں بلکہ مناسب نیند لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ ایک چیز دوسری کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔

مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو روزانہ سات سے نو گھنٹے کی نیند اور مناسب جسمانی سرگرمی دونوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا پاتے ہیں۔ زیادہ تر افراد یا تو پوری نیند نہیں لیتے یا پھر دن بھر زیادہ وقت بیٹھے رہتے ہیں، جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ کم نیند لینے والے افراد نہ صرف طویل مدت میں صحت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اگلے دن ان کی جسمانی سرگرمی بھی متاثر ہوتی ہے۔ نیند کی کمی سے جسم میں تھکن بڑھ جاتی ہے اور چلنے پھرنے یا ورزش کرنے کی صلاحیت اور خواہش کم ہو جاتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ناکافی نیند اور غیر فعال طرزِ زندگی ذہنی دباؤ، موٹاپے، شوگر، دل کی بیماریوں اور دیگر سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے افراد میں مجموعی طور پر جلد موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

تحقیق کے لیے دنیا بھر کے ہزاروں افراد کا ڈیٹا کئی برسوں تک جمع کیا گیا۔ شرکاء کی نیند اور جسمانی سرگرمی جانچنے کے لیے جدید آلات استعمال کیے گئے، جن سے نیند کا دورانیہ، معیار اور روزانہ کی حرکت کا ریکارڈ رکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اپنی نیند کو ترجیح دیں اور روزمرہ معمول میں مناسب جسمانی سرگرمی کو بھی شامل کریں، کیونکہ اچھی نیند اور فعال طرزِ زندگی مل کر ہی بہتر صحت اور لمبی عمر کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں