نیند کی بےقاعدگی ڈیمنشیا کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے: نئی تحقیق

ایک نئی سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند کے بےقاعدہ معمولات ڈیمنشیا یعنی یادداشت کی بیماری کی ابتدائی علامت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی نیند اور جاگنے کا قدرتی نظام درست طریقے سے کام نہ کر رہا ہو تو اس سے مستقبل میں ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی، جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے، نیند، ہارمونز اور جسم کے دیگر اہم افعال کو منظم کرتی ہے۔ جن افراد میں یہ نظام کمزور پایا گیا، ان میں ڈیمنشیا لاحق ہونے کے امکانات زیادہ تھے۔

تحقیق میں تقریباً 2200 بزرگ افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 79 سال تھی اور تحقیق کے آغاز پر وہ ڈیمنشیا میں مبتلا نہیں تھے۔ ان افراد کی روزمرہ سرگرمیوں اور آرام کے معمولات کو ایک خاص مانیٹر کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا اور پھر تین سال تک ان کی صحت پر نظر رکھی گئی۔

تین سال کے دوران کچھ افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد کی نیند اور سرگرمیوں کا نظام زیادہ بےترتیب تھا، ان میں اس بیماری کا خطرہ واضح طور پر زیادہ تھا، جبکہ منظم معمولات رکھنے والے افراد میں یہ خطرہ نسبتاً کم رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کے نظام میں خرابی جسم میں سوزش اور دماغی تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے، جس سے دماغ میں وہ مادے بڑھنے لگتے ہیں جو ڈیمنشیا سے جڑے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق روزمرہ زندگی میں نیند کے معمولات پر توجہ دینا اس بیماری کی بروقت پہچان اور ممکنہ روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں