انڈیا اور پاکستان نے نئے سال کے آغاز پر سفارتی ذرائع کے ذریعے بیک وقت ایک دوسرے کے ساتھ جوہری تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔ انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پرانے ایک معاہدے کے تحت انجام پایا ہے۔
بیان کے مطابق، انڈیا اور پاکستان نے 31 دسمبر 1988 کو ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی باضابطہ توثیق 27 جنوری 1991 کو کی گئی تھی۔
اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو اپنی جوہری تنصیبات سے متعلق آگاہ کرتے ہیں، اور اس سلسلے میں فہرستوں کا تبادلہ یکم جنوری 1992 سے مسلسل جاری ہے۔
جوہری ہتھیاروں پر نظر رکھنے والے عالمی تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سیپری) کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق، انڈیا اور پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک بعض میزائل تجربات سے متعلق بیانات جاری کرتے ہیں، تاہم اپنے جوہری اسلحے کے حجم اور حالت کے بارے میں تفصیلات عام نہیں کی جاتیں۔
یہ معاہدہ پاکستان کی جانب سے اُس وقت کی وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو اور انڈیا کی جانب سے وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے درمیان طے پایا تھا