پوتن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملہ، پاکستان اور بھارتی وزرائے اعظم کی مذمت، یوکرین نے الزام مسترد کر دیا

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا ہےکہ کیئو نے رات کے وقت طویل فاصلے تک مار کرنے والے بغیر پائلٹ ہوائی جہازوں (یو اے ویز) کے ذریعے روس کے شمال مغربی علاقے نووگورود میں صدر پوتن کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا۔

اس دعوےکے ردِ عمل میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے صدر ولادیمیر پوتن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے والے مبینہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایسے وقت میں جب قیامِ امن کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس نوعیت کا اقدام امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس موقع پر روس کے صدر اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کے تشدد اور ہر اُس اقدام کو مسترد کرتا ہے جو امن و سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بنے۔

دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایکس پر اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ روس کے صدر کی رہائش گاہ کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جاری سفارتی کوششیں ہی دشمنیوں کے خاتمے اور امن کے قیام کا سب سے مؤثر راستہ فراہم کرتی ہیں۔ ہم تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان کوششوں پر توجہ مرکوز رکھیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو انہیں نقصان پہنچا سکتا ہو۔

تاہم، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے ماسکو پر امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔

واضح رہے،ولادیمیر زیلنسکی کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ترمیم شدہ امن منصوبے پر بات چیت ہوئی۔ زیلنسکی کے مطابق، امریکہ نے یوکرین کو 15 سال کے لیے سکیورٹی کی ضمانت دی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس نکتے پر معاہدہ تقریبا 95 فیصد طے پا چکا ہے

اپنا تبصرہ لکھیں