اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے جاری کی گئی ‘افغانستان پوسٹ ریٹرن مانیٹرنگ سروے رپورٹ’ میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے افغان شہریوں کو مختلف نوعیت کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ایران سے واپس آنے والے افغان نسبتا زیادہ تعلیم یافتہ ہیں، ان کی غذائی صورتحال اور رہائش بہتر ہے، جبکہ پاکستان سے واپس آنے والے شدید معاشی مشکلات، یومیہ اجرت پر انحصار اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
سروے میں بتایا گیا کہ ایران سے واپس آنے والوں میں آمدن پیدا کرنے والی ملازمت رکھنے والوں کی شرح کم ہے اور وہ لڑکیوں کی تعلیم میں زیادہ رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، اپریل کے بعد پاکستان سے واپس آنے والوں کو وقتی یا غیر مستقل آمدن کے مواقع تو میسر آئے، تاہم وہ کرایہ ادا کرنے اور مناسب خوراک کا بندوبست کرنے میں شدید مشکلات کا شکار رہے۔
رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر تمام واپس آنے والے افغان ایسے علاقوں میں آباد ہو رہے ہیں جہاں حالات نہایت نازک ہیں، غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ بہت سے افراد اپنے آبائی علاقوں میں واپس نہیں جا سکے کیونکہ وہاں رہائش، زمین یا روزگار کے مواقع میسر نہیں۔ سروے میں شامل نصف سے زائد خاندانوں نے بتایا کہ ان کے پاس بنیادی شہری دستاویزات موجود نہیں، جس کے باعث تعلیم، صحت اور رہائش تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں افغان خواتین اور لڑکیوں کو شدید پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایران سے واپس آنے والوں نے تعلیمی رکاوٹوں کی وجہ پالیسیوں اور قوانین کو قرار دیا، جبکہ پاکستان سے آنے والوں نے معاشی مسائل کو سب سے بڑی رکاوٹ بتایا۔ صحت کی سہولیات تک رسائی بھی اخراجات، فاصلے اور ادویات کی قلت کے باعث محدود ہے، جس سے خواتین غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہی ہیں، کیونکہ ان کی نقل و حرکت پر مزید پابندیاں عائد ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق، 88 فیصد واپس آنے والے افغان خاندان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں، اگرچہ یہ شرح 2024 کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔ قرض دار خاندان عموما بڑے ہیں، جن کے اوسطا چھ افراد ہوتے ہیں۔ ننگرہار صوبے میں صورت حال سب سے زیادہ تشویشناک پائی گئی، جہاں 96 فیصد واپس آنے والوں نے مالی دباؤ کی اطلاع دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران سے واپس آنے والے افغان، پاکستان سے واپس آنے والوں کے مقابلے میں قدرے کم قرض دار ہیں، جبکہ خواتین اور مرد سربراہ خاندانوں کے درمیان قرض کی شرح میں نمایاں فرق نہیں پایا گیا۔ تقریبا تمام قرض دار خاندانوں نے بتایا کہ ان کا قرض ان کی ماہانہ آمدن سے کہیں زیادہ ہے، جو غیر پائیدار معاشی چکر اور معاشی بحالی میں بڑی رکاوٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔
اگست 2025 میں پہلی بار ایران سے واپس آنے والے افغانوں کو اس مانیٹرنگ میں شامل کیا گیا، جبکہ پاکستان سے واپس آنے والوں کے لیے دو الگ ڈیٹا سیٹس تیار کیے گئے ، ایک اپریل 2025 سے پہلے اور دوسرا اپریل کے بعد واپس آنے والوں کے لیے، جب مالی امداد میں کمی کر دی گئی تھی۔ اس سروے میں غیر دستاویزی واپس آنے والے افراد کو بھی شامل کیا گیا تاکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کے تجربات کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے