تاجکستان کی سرحدی تحفظ ایجنسی کے مطابق، تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر فوج اور دراندازوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پانچ افراد ہلاک ہو گئےہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، یہ واقعہ منگل کو شمس الدین شوخین ضلع کے گاؤں کاوو کے قریب پیش آیا، جہاں افغانستان سے بھاری اسلحے سے لیس افراد تاجک حدود میں داخل ہوئے۔
سرحدی ایجنسی کے بیان کے مطابق، بدھ کے روز دراندازوں نے ایک سرحدی چوکی پر حملہ کیا۔ فائرنگ کے دوران دو تاجک سرحدی اہلکار جان سے گئے، جبکہ تین حملہ آور بھی مارے گئے۔ حکام کے مطابق، حالیہ ہفتوں میں یہ تیسرا ایسا واقعہ ہے جس میں سرحدی محافظوں اور شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران حملہ آوروں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا، جس میں دستی بم، تین ایم۔16 رائفلیں، ایک کلاشنکوف، غیر ملکی ساخت کے تین سائلنسر لگے پستول، دس دستی بم، نائٹ وژن اسکوپ، دھماکا خیز مواد اور دیگر گولہ بارود شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آوروں نے سرحدی محافظوں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے احکامات ماننے سے انکار کیا اور مسلح مزاحمت کی، جبکہ ان کا مقصد قومی سلامتی کمیٹی کے ماتحت بارڈر ٹروپس کی ایک چوکی پر حملہ کرنا تھا۔
تاجک حکام نے واقعے کو سرحدی سلامتی کے حوالے سے افغان حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی جانب سے سرحدی تحفظ اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے وعدوں پر عمل نہیں ہو سکا۔ تاجکستان نے افغان قیادت سے اس واقعے پر معذرت کی توقع ظاہر کی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور اسمگلروں کے خلاف اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
ادھر افغانستان کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ افغانستان سے وسطی ایشیا میں منشیات کی اسمگلنگ ایک دیرینہ مسئلہ ہے، جبکہ تاجکستان میں روسی افواج بھی تعینات ہیں جو ماضی میں سرحدی تحفظ کے لیے مشترکہ مشقوں میں حصہ لے چکی ہیں