پاکستان اور افغانستان میز پر آئیں، عوامی مفاد کو ترجیح دیں گے تو تعلقات معمول پر آ سکتے ہیں: چینی قونصل جنرل

پاکستان میں تعینات چین کے قونصل جنرل ژاؤ شیرین نے لاہور میں ایک سیمینار کے موقع پر تاشقند اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے تعلقات تاریخی طور پر ایک انتہائی مثبت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور خطّے میں جاری سفارتی پیش رفت مستقبل میں مزید مضبوط تعاون کی بنیاد بن رہی ہے۔

چینی قونصل جنرل نے بتایا کہ چین کی قیادت کی جانب سے پانچوں وسطی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے ساتھ پہلی مشترکہ سربراہی ملاقات کے بعد دونوں جانب تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے، اور اس کے فائدے خطّے اور چین دونوں کے عوام تک پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شیان (صوبہ شانشی) میں قائم چین۔وسطی ایشیا سیکریٹریٹ نے مستقل رابطے اور ادارہ جاتی شراکت داری کو مضبوط کیا ہے، جس کی بدولت اعلیٰ سطح کے دورے اور رابطے معمول بن چکے ہیں۔ ژاؤ شیرین نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ تعلقات آئندہ برسوں میں مزید گہرے ہوں گے کیونکہ یہ تاریخ کے صحیح رخ پر ہیں اور خطّے کے اجتماعی مفاد میں ہیں۔

قونصل جنرل نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین ہمیشہ سیاسی حل کا حامی رہا ہے اور چاہتا ہے کہ دونوں ممالک براہِ راست مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہاکہ ہم تمام فریقوں سے کہتے ہیں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں، کیونکہ ہمسایے کبھی بدلے نہیں جا سکتے۔ پاکستان، افغانستان اور چین قریب ترین پڑوسی ہیں، اس لیے فوجی کشیدگیاں دیرپا نہیں رہ سکتیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ چین قطر اور ترکی جیسے ممالک کے مصالحتی کردار کا بھی خیر مقدم کرتا ہے، جبکہ اپنی طرز پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق، افغانستان سے متعلق چین کے کچھ جائز سکیورٹی خدشات بھی ہیں، خصوصا سرحد پار حملوں اور دہشت گردی کے حوالے سے۔ژاؤ شیرین نے کہا کہ چین ہر ملک کی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام کرتا ہے، خواہ وہ پاکستان ہو یا افغانستان۔

چینی قونصل جنرل نے طویل مدت میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی بہتری کے امکانات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اگر خلوصِ نیت، سچائی اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں تو تعلقات دوبارہ معمول پر آ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین علاقائی امن، باہمی سرمایہ کاری اور خطّے کی ترقی کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعاون کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، اور امید ہے کہ خطّے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے دروازے مزید کھلیں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں