دن بھر کی تھکاوٹ اور ذہنی دباؤ نے آج کے دور میں اچھی نیند کو ایک بڑی نعمت بنا دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب سونا نہایت آسان عمل سمجھا جاتا تھا، لیکن اب لوگ مختلف سپلیمنٹس، اسمارٹ ٹریکرز، خوشبودار اسپرے، وزنی کمبل اور طرح طرح کے گیجز استعمال کرکے اپنی نیند بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس رجحان کو ماہرین نے “سلیپ مکسنگ” کا نام دیا ہے، جو سوشل میڈیا سے نکل کر ہماری روزمرہ زندگیوں میں بھی شامل ہو چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیند بہتر بنانے کی کوشش میں بہت سے لوگ خود ہی بے خوابی کا شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ مسلسل پریشانی اور ذہنی الجھن انہیں سونے ہی نہیں دیتی۔ حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ہر چار میں سے ایک شخص، جو سلیپ مکسنگ کی عادت رکھتا ہے، نیند کے بارے میں مزید خوفزدہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیچیدہ ٹیکنالوجیوں اور تجربوں کے بجائے روزمرہ کی چند آسان عادات اپنا کر نہ صرف آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند لی جا سکتی ہے بلکہ صبح تازہ دم جاگنا بھی ممکن ہے۔ ان کے مطابق نیند کی کمی صرف تھکن نہیں لاتی بلکہ دل کی بیماری، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور ڈپریشن جیسے مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ سوئیڈن میں ہونے والی ایک تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اگر تین راتیں چار گھنٹے سے کم نیند لی جائے تو دل کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بہتر نیند کی بنیاد پورے دن کی روٹین پر ہے۔ روز ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا جسمانی گھڑی کو منظم رکھتا ہے، جبکہ بے قاعدگی ہارمونز کے نظام کو بگاڑ دیتی ہے۔ اسی طرح سونے سے قبل ہلکا گرم شاور جسم کو نیند کے لیے تیار کرتا ہے اور ٹمپریچر میں قدرتی کمی دماغ کو آرام کا اشارہ دیتی ہے۔ ماہرین رات کے وقت فون اور اسکرین کے استعمال سے بھی گریز کا مشورہ دیتے ہیں، کیونکہ خبریں، چیٹنگ اور اسکرولنگ دماغ کو جاگتا رکھتی ہیں اور میلاٹونن کے بننے کے عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اچھی نیند رات سے نہیں بلکہ صبح سے شروع ہوتی ہے۔ صبح باہر نکل کر چند منٹ قدرتی روشنی حاصل کرنا باڈی کلاک کو نارمل کرتا ہے اور میلاٹونن کی پیداوار روک کر جسم کو دن کے آغاز کا پیغام دیتا ہے۔ اس کے بعد مناسب ناشتہ خون میں شکر کو مستحکم کرتا ہے اور جسمانی نظام کو متحرک کرتا ہے، جس سے مجموعی طور پر نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ چند سادہ عادات نہ صرف پرسکون نیند لانے میں مدد دیتی ہیں بلکہ جسمانی اور ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ تاہم صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں ہمیشہ معالج کے مشورے پر عمل کرنا ضروری ہے