نئی طبی تحقیق کے مطابق روزانہ ایک سنترہ یا اورنج کھانے سے منہ، گلے اور معدے کے کینسر کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔
آسٹریلیا کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سنترے میں موجود غذائی اجزاء اور وٹامنز انسانی جسم کے لیے بہت مفید ہیں اور یہ مختلف بیماریوں کے خلاف حفاظتی کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سنترے میں وٹامنز C، B، A اور E کے علاوہ کیلشیم، میگنیشیم، پوٹاشیم اور فاسفورس بھی موجود ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ وٹامن C خاص طور پر جسم کے دفاع کو بڑھاتا ہے کیونکہ انسان کا جسم اسے خود پیدا نہیں کر سکتا۔
سنترے میں موجود فائبر ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اور قبض کے مسائل سے بچاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سنترے کا رس کولیسٹرول کو توڑ کر پتھری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے۔ صبح ایک گلاس سنترے کے رس پینے سے ذہنی دباؤ اور روزمرہ کے تناؤ میں کمی آ سکتی ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سنترے کی چھلکی میں ایسے مرکبات بھی پائے جاتے ہیں جو چکنائی اور نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرنے میں دوائیوں سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں اور ان کے ضمنی اثرات نہیں ہوتے۔ سنترے کی چھلکی میں موجود کمپاؤنڈز جیسے ٹینجرٹن اور نوبیلیٹن آنتوں کے لیے مفید بیکٹیریا پیدا کرنے اور معدے کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
اس تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ روزانہ سنترہ یا اس کا رس پینا نہ صرف جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ دل کی بیماریوں، وزن بڑھنے اور شوگر کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے