ظہران ممدانی کی کامیابی اور ہمارے سیاسی رویوں کے لیے سبق

نیویارک کے نو منتخب مئیر کی غیر معمولی کامیابی ہمیں جدید دنیا میں ترقی و کامیابی کے حوالے سے جس اہم چیز کی طرف متوجہ کرتی ہے، وہ ممدانی کا مذہبی، قومی، لسانی ہر حوالے سے متنوع پس منظر ہے۔

ظہران ممدانی کے والدین کا تعلق بھارت سے ہے، وہ یوگنڈا میں بھی رہے، خود یوگنڈا اور امریکہ دونوں کی شہریت رکھتے ہیں۔ اثنا عشری شیعہ مسلمان ہیں۔ ان کی بیوی راما دواجی شامی نژاد والدین کی بیٹی ہیں۔ ظہران ممدانی انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندی/اردو، بنگالی، ہسپانوی، لوگانڈا اور عربی زبانیں بھی جانتے ہیں۔ یہ تمام تنوع انہیں مختلف ثقافتوں کو سمجھنے، جوڑنے اور ایک دوسرے کی اقدار کا احترام کرنے والا سیاسی رہنما بناتا ہے۔ آج دنیا کی ضرورت یہی تکثیریت اور پلورلزم ہے، نہ کہ نسل، برادری اور قومیت کی بنیاد پر تنگ نظری۔

ممدانی نے انتخاب میں ہمارے سیاست دانوں کی طرح کوئی مذہبی و سیاسی نعرے بازی نہیں کی بلکہ لوگوں کی زندگیوں سے جڑے مسائل جیسے کرایہ داری قوانین، ٹرانسپورٹ، ہیلتھ کیئر، نسلی انصاف، محنت کش طبقے کے مسائل کو بنیادی ایجنڈا بنایا اور اس کو گھر گھر پہنچایا۔ انہوں نے گلی محلوں میں جا کر لوگوں کی بات سنی، ان کے ساتھ کھڑے ہوئے اور انھیں اپنائیت کا احساس دلایا۔

مختلف کمیونٹیز سے براہِ راست جڑ کر انہیں اعتماد دیا۔ یہ ہمارے پاکستانی نوجوانوں کے لیے سبق ہے کہ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے محدود اور فرقہ وارانہ سوچ سے نکلنا اور تکثیریت کو مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ممدانی نے کبھی اپنی مسلمان یا شیعہ شناخت نہیں چھپائی، مگر اسے سیاست کا ہتھیار بھی نہیں بنایا۔ وہ شہریت، مذہب یا نسل کی بنیاد پر تقسیم کے حامی نہیں۔ یہ پیغام پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لیے خاص طور پر اہم ہے جہاں سیاست اکثر مذہبی، لسانی اور طبقاتی تفریق پر کھڑی ہوتی ہے۔

ممدانی کی سیاسیت کا سبق ہے کہ سوسائٹی کی بنت کو اکھاڑے بغیر ریاستی ڈھانچے میں شامل ہو کر، قانون سازی اور جمہوری جدوجہد سے کیسے انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے یہ سبق ہے کہ اگر انہیں مستقبل بدلنا ہے تو ایسی خوب صورت سیاست شعار کرنا ہوگی۔

بہ الفاظ دیگر ظہران ممدانی کی سیاسی کہانی بتاتی ہے کہ آج کے دور کی عوامی طاقت کا حصول پلورلزم میں پوشیدہ ہے۔ آج مکالمہ وقت کی ضرورت ہے۔ آج انسانیت کا نعرہ موثر ہے۔

مذہب نفرت نہیں، کردار کی پہچان ہے اور یہ سوچ ایک پُرامن، ترقی یافتہ اور عالمی دنیا تک رسائی دیتی ہے، جب کہ مذہبی نعرے بازی ، فرقہ اور برادری پرستی، تنگ نظری ناکامی کی طرف لے جاتی ہے۔

ظہران ممدانی پاکستان اور یہاں کے نوجوانوں کے لیے نمونہ ہیں کہ دنیا مذہبی فرقہ واریت اور اس سے متعلق نعروں یا متعصبانہ قومیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ وژن، خدمت خلق، وسیع القلبی اور وسعتِ فکر سے جیتی جا سکتی ہے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں