چین کی سرکاری ایئرلائن “چائنا ایسٹرن ایئرلائنز” 9 نومبر سے شنگھائی اور دہلی کے درمیان براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔ یہ فیصلہ چین اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات میں بہتری کے بعد سامنے آیا ہے، جو کہ امریکہ کی سخت تجارتی پالیسیوں کے تناظر میں ہوا ہے۔
ایئرلائن کی ویب سائٹ کے مطابق، شنگھائی-دہلی پروازیں ہفتے میں تین دن، بدھ، ہفتہ اور اتوار کو چلائی جائیں گی۔
بھارت کی وزارت خارجہ نے رواں ماہ کے آغاز میں تصدیق کی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان کمرشل پروازیں پانچ سال بعد دوبارہ شروع ہو رہی ہیں۔ پروازیں 2020 میں کورونا وبا کے دوران معطل ہوئی تھیں، اور بعد میں سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے بند رہیں۔
یاد رہے کہ 2020 میں لداخ کے قریب ہونے والے خونریز جھڑپوں میں 20 بھارتی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
حالیہ سفارتی بہتری بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سات سال بعد چین کے دورے کے بعد دیکھنے میں آئی، جہاں انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت کی اور چینی قیادت سے دو طرفہ تجارت پر بات چیت کی۔ اس دوران بھارت نے چین کے ساتھ تجارتی خسارے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
ادھر بھارت کی نجی ایئرلائن “انڈیگو” نے بھی کولکتہ اور چینی شہر گوانگژو کے درمیان روزانہ براہِ راست پروازوں کا اعلان کیا ہے۔
چینی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مزید براہِ راست پروازوں کے آغاز کی حوصلہ افزائی کریں گے۔