ازبک پارلیمانی وفد کا دورۂ پاکستان، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ازبکستان کی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نورالدین اسماعیلوف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور ازبکستان کی پارلیمانوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

وفد کو قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے مدعو کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اسپیکرز نے پاکستان اور ازبکستان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو سراہا اور ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ازبک اسپیکر نورالدین اسماعیلوف نے پاکستان کی علاقائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں تجارت، توانائی اور روابط کے فروغ کے لیے ایک اہم ملک ہے۔ انہوں نے پاکستان کے حالیہ سفارتی مؤقف، خاص طور پر بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران، کو متوازن اور قابلِ تعریف قرار دیا۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ ازبکستان کو دو طرفہ تعلقات کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا، اور پاکستان کی ثقافتی و تہذیبی ورثے کی تعریف کی۔ اسماعیلوف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برادری، اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات ہیں، اور پارلیمانی تعاون سے عوامی رابطے مزید گہرے ہوں گے۔

اس موقع پر پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمانی سفارتکاری خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے پاکستان-ازبکستان پارلیمانی فرینڈشپ گروپ جیسے پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ازبکستان کو خطے میں اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور تجارتی، توانائی، بنیادی ڈھانچے اور رابطے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے ازبکستان کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی تاکہ وہ عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکے۔اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی میں سب سے کم کردار ادا کرنے والا ملک ہے، لیکن اس کے باوجود شدید مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی اور کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور مسلم امہ سے مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کی حمایت کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

دونوں ممالک کے وفود نے علاقائی امن، مشترکہ ترقی اور قریبی پارلیمانی تعاون کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں