اسرائیل دوبارہ ہماری ایٹمی تنصیبات پرحملہ نہیں کرے گا، اس کی گارنٹی کون دے گا، ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک تازہ بیان میں اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر اسرائیل دوبارہ ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے تو اس کی روک تھام کی ضمانت کون دے گا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی صدر نے واضح کیا کہ تہران عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی (IAEA) کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) پر بھی پوری طرح کاربند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کر رہا ہے، لیکن اسرائیل بار بار ان قوانین کو روند رہا ہے اور عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب عالمی پابندیوں کو مؤخر کرنے کی ایرانی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

مزید برآں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر عائد عالمی پابندیاں مؤخر کرنے کی قرارداد مسترد کردی۔ یہ قرارداد چین اور روس نے پیش کی تھی، تاہم مغربی طاقتوں کی مخالفت کے باعث اسے منظور نہیں کیا جا سکا۔

رپورٹس کے مطابق اگر ایران اور یورپی طاقتوں کے درمیان کسی نئے معاہدے تک رسائی نہ ہوئی تو کل صبح پانچ بجے سے ایران پر وہ تمام عالمی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی جو 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ختم کر دی گئی تھیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں