کینسر کے خطرے میں جینیات کا اہم کردار، ماہرین کی تحقیق

ماہرین صحت کے مطابق کینسر ایک پیچیدہ بیماری ہے جس کے پس منظر میں جینیات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جہاں کینسر کا خطرہ موروثی جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر BRCA1 اور BRCA2 جیسے جینز بریسٹ اور اووری کینسر سے منسلک ہیں، جبکہ لنچ سنڈروم بڑی آنت کے کینسر سمیت دیگر اقسام سے تعلق رکھتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جینیاتی تغیرات دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو پیدائش کے وقت والدین سے بچوں کو منتقل ہوتے ہیں اور جسم کے ہر خلیے میں موجود رہتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں کینسر کے بنیادی خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔

دوسری قسم وہ ہے جو زندگی کے دوران مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں بڑھتی ہوئی عمر، ماحولیاتی اثرات یا طرزِ زندگی کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی ہیں اور ان کا اثر بھی کینسر کے امکانات پر پڑتا ہے۔

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ کینسر کا خطرہ صرف ایک یا دو جینز کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ کئی چھوٹے چھوٹے جینی تغیرات بھی مل کر اس کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ ماحول کے اثرات بھی جُڑ جاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی، آلودگی، ناقص خوراک اور تابکاری جیسے عوامل جینیاتی تغیرات کے ساتھ مل کر خطرے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ جینیاتی وراثت کینسر کی بنیاد فراہم کرتی ہے لیکن ماحول اور طرزِ زندگی اس خطرے کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے ہے کہ ایسے خاندان جن میں کینسر کی ہسٹری پائی جاتی ہے انہیں باقاعدہ میڈیکل اسکریننگ اور جینیاتی ٹیسٹ کرانا چاہیے تاکہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں اور بیماری کو ابتدائی مراحل میں پہچان کر علاج ممکن بنایا جا سکے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں