دن کی شروعات تازہ دم ہو کر کی جائے یا رات کو تھکن اتار کر سکون سے سویا جائے یہ سوال ہمیشہ سے لوگوں میں تقسیم کا باعث رہا ہے۔ کچھ افراد صبح کے وقت نہانے کو ضروری سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ کے لیے رات کا غسل دن بھر کی گرد و غبار اور تھکن سے نجات کا ذریعہ ہوتا ہے۔
تاہم طبی ماہرین کے مطابق نہانے کا اصل مقصد جسم سے پسینہ، چکنائی، آلودگی اور جراثیم کو صاف کرنا ہے، اور اس حوالے سے وقت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ جسم اور بستر کو کتنی صفائی سے رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ رات کو نہاتے ہیں مگر بستر، چادریں اور تکیے صاف نہیں رکھتے تو جسم پر دوبارہ جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں۔ نیند کے دوران بھی جسم پسینہ خارج کرتا ہے اور جلد کے خلیات جھڑتے ہیں، جو بستر میں دھول کے کیڑوں (dust mites) کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف نہانا کافی نہیں بلکہ صاف بستر بھی نہایت ضروری ہے۔ گندے بستر میں سونا نہ صرف نہانے کے فائدے کو ضائع کرتا ہے بلکہ جلدی بیماریوں، سانس کے مسائل اور الرجی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، رات کا گرم پانی سے کیا گیا شاور نہ صرف جسمانی سکون دیتا ہے بلکہ نیند کے معیار کو بھی بہتر بناتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سونے سے کچھ دیر قبل گرم شاور لینے سے جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، اور بعد میں ٹھنڈا ہونے سے دماغ کو آرام کا پیغام ملتا ہے، جس سے سونا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ احساس کہ آپ صاف ستھرے ہو کر بستر پر جا رہے ہیں، ذہنی سکون کا باعث بھی بنتا ہے۔
ادھر صبح نہانے کے حامی افراد اسے دن کی تازہ شروعات کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ رات بھر کا پسینہ، چکنائی اور جلد پر موجود جراثیم صبح کے وقت دھونا بہتر ہوتا ہے تاکہ دن تازگی اور توانائی کے ساتھ شروع ہو۔ خاص طور پر ایسے لوگ جن کا پیشہ جسمانی مشقت سے جڑا ہو، ان کے لیے شام کا نہانا زیادہ موزوں سمجھا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ دن میں صرف ایک بار نہاتے ہیں تو وقت سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آپ روزانہ جسم کے ضروری حصے دھوئیں، بستر صاف رکھیں اور نہانے کا ایسا معمول اپنائیں جو آپ کی زندگی اور نیند کے شیڈول سے ہم آہنگ ہو۔ بعض لوگوں کے لیے رات کا غسل بہتر نیند لانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، تو کچھ کے لیے صبح کا شاور دن کا بہترین آغاز ثابت ہوتا ہے۔ فیصلہ آخرکار آپ کے ذاتی معمول اور ضرورت پر ہے۔