فلس-طینی ریاست کا قیام حق ہے، ثواب نہیں: انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فلس۔ طین کے دو ریاستی حل کے لیے دنیا بھر میں جاری کوششوں کو سراہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلس ۔ طینی عوام کا اپنا ایک آزاد اور خودمختار ملک ہونا کسی کا احسان یا ثواب نہیں، بلکہ ان کا حق ہے۔

اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام نیو یارک میں فلس۔ طین سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں دنیا کے کئی اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔

گوتریس نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ غز۔ ہ کی صورتحال اس وقت نہایت خوفناک ہے، اور صرف دو ریاستی حل ہی اس خطے کو اس ڈراؤنے خواب سے نکال سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ غز۔ ہ میں فوری جنگ بندی کی جائے اور وہاں کے متاثرہ لوگوں تک امدادی سامان پہنچایا جائے۔

انہوں نے حما۔ س سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے قبضے میں موجود تمام یرغمالیوں کو فوری رہا کرے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں