ازبکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی آزادی پر دوسرے بین الاقوامی فورم کا انعقاد

تاشقند اور سمرقند 10 سے 13 ستمبر 2025 تک دوسرے بین الاقوامی ’’ڈائیلاگ آف ڈیکلیریشنز فورم‘‘ کی میزبانی کریں گے۔ یہ فورم ازبک صدر شوکت مرزائیوف کے تحت انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اینڈ ریجنل اسٹڈیز (ISRS) اور امریکی این جی او ’’لو یور نیبر کمیونٹی‘‘ (LYNC) کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی معاونت ازبکستان کی مذہبی امور کی کمیٹی، مرکزِ اسلامی تہذیب، وزارتِ خارجہ اور سمرقند کے علاقائی حکام کر رہے ہیں۔

آئی ایس آر ایس کی ڈپٹی ڈائریکٹر شافوعت نوراللہ یوا نے فورم کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ 2016 سے مراکش، مکہ، جکارتہ، پوٹومیک اور پنتا ڈیل ایسٹے جیسے شہروں میں بین المذاہب رواداری، برداشت اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے اسی نوعیت کے فورمز منعقد کیے جا چکے ہیں، جن کے نتیجے میں ’’ڈیکلیریشنز‘‘ کے نام سے مختلف اعلامیے اپنائے گئے۔ ازبکستان نے بھی اس سلسلے میں پہل کرتے ہوئے مئی 2022 میں پہلا ہائی لیول ’’ڈائیلاگ آف ڈیکلیریشنز فورم‘‘ منعقد کیا، جس میں امریکہ، برطانیہ، آسٹریا، پاکستان، انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک کے ممتاز مذہبی اسکالرز، قانون دان اور سرکاری اداروں کے نمائندگان شریک ہوئے تھے۔

پہلے فورم کے اختتام پر ’’بخارا ڈیکلیریشن‘‘ اپنایا گیا تھا، جسے بعد میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس میں ایک سرکاری دستاویز کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ ازبکستان کی پارلیمنٹ نے بھی اس اعلامیے کی حمایت میں مشترکہ قرارداد منظور کی، جس سے انسانی حقوق اور شہری مفادات کے تحفظ میں پارلیمان کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
شافوعت نوراللہ یوا کے مطابق دوسرا فورم اس بات کا ثبوت ہے کہ ازبکستان نہ صرف بین الاقوامی اعلامیوں میں درج اصولوں اور اقدار کا حامی ہے بلکہ ان پر عملی طور پر عمل درآمد بھی کر رہا ہے۔ یہ فورم مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ازبکستان کی پالیسی کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا اظہار ہے۔

اس فورم میں تقریبا15 ممالک کے 50 سے زائد مذہبی اسکالرز، ماہرین اور اعلیٰ حکام شریک ہوں گے، جن میں اسلامی تعاون تنظیم کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل یوسف محمد الدوبے، مسلم ورلڈ لیگ کے عبدالرحمن الزید، ’’انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم یا بلیِف الائنس‘‘ کے چیئرمین رابرٹ ریہاک سمیت کئی اہم شخصیات شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹری جنرل محمد العیسیٰ اور یو اے ای کونسل برائے فتوٰی کے چیئرمین شیخ عبداللہ بن بیّہ کے ویڈیو پیغامات بھی نشر کیے جائیں گے۔

چار روزہ فورم میں مذہبی آزادی کے تحفظ، شہری معاشروں میں ہم آہنگی کے فروغ اور خواتین کے مذہبی شعبے میں کردار پر خصوصی سیشنز ہوں گے، جبکہ غیرملکی مہمانوں کو سمرقند کے مذہبی و ثقافتی ورثے سے متعارف کرانے کے لیے مطالعاتی دورے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

اس فورم کے اہم مقاصد میں ازبکستان کی جانب سے مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کیے گئے اصلاحاتی اقدامات کو عالمی برادری تک پہنچانا، عالمی سطح پر مثبت تجربات کا تبادلہ کرنا اور مذہبی آزادی کے اصولوں پر مبنی اجتماعی اپیل کا اعلان شامل ہے۔ اس اپیل میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہب کی بنیاد پر امتیاز کے خاتمے، انتہا پسندی کے مقابلے کے لیے مذہبی تعلیم کے فروغ، مذہبی آزادی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کرنے اور تمام مذاہب و ثقافتوں کے لوگوں کے درمیان مساوات کی حوصلہ افزائی پر زور دیا جائے گا۔

منتظمین کے مطابق یہ فورم دنیا میں رواداری، فراخ دلی، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں