صدر شوکت مرزائیوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، اسٹریٹجک شراکت داری بڑھانے پر اتفاق

صدر شوکت مرزائیوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جمعےکو ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

امریکی صدر نے ‘نئے ازبکستان’ میں گزشتہ برسوں کے دوران شروع ہونے والی اصلاحات کو سراہا جو معیشت کی جدید کاری اور عوام کی فلاح و بہبود میں اضافے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر صدر مرزائیوف نے بھی امریکی صدر کو اندرونی اور خارجی پالیسی میں حاصل شاندار کامیابیوں پر مبارکباد دی اور عالمی و علاقائی تنازعات کے پُرامن حل اور دنیا میں امن و استحکام کے قیام کے لیے امریکی کوششوں کو سراہا۔

دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر بات کی، خصوصاکاروباری منصوبوں کے فروغ اور تجارتی حجم میں نمایاں اضافے پر زور دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال 2024 میں ازبکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی حجم میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تعاون کے مجوزہ منصوبوں میں اہم معدنی وسائل، برقی صنعت، توانائی، زراعت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مالیاتی شعبہ، جدت اور تعلیم سمیت کئی شعبے شامل ہیں۔ رواں ماہ امریکی کمپنیوں اور تنظیموں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں اور مذاکرات متوقع ہیں تاکہ طویل مدتی اور پائیدار شراکت داری قائم کی جا سکے۔

سیکیورٹی کے شعبے میں بھی انسدادِ دہشت گردی، انتہا پسندی اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف مشترکہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ انسانی اور ثقافتی تبادلے بھی وسعت پا رہے ہیں جبکہ امریکی جامعات کی شاخیں کامیابی سے تاشقند میں کام کر رہی ہیں۔

اس موقع پرخوشی کا اظہار کیا گیا کہ ازبکستان کی قومی ٹیم پہلی بار آئندہ سال امریکہ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی۔ صدر ٹرمپ نے ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

علاوہ ازیں، دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی اور علاقائی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا، خصوصا وسطی ایشیائی ریاستوں اور امریکہ کے درمیان “C5+1” فارمیٹ میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر گفتگو ہوئی۔

صدر مرزائیوف نے امریکی صدر کو ازبکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔ دونوں ممالک کے صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اعلیٰ سطحی روابط اور عملی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے رابطے جاری رکھے جائیں گے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں