اِدھر کوئی دلخراش واقعہ ہوتا ہے اُدھر سوشل میڈیا پردندناتے ہمارے مخصوص شتربے مہارتفتیشی تھانیدار سچائی تک رسائی یقینی بنائے بغیر ا پنے اندازوں کی بنیاد پرا پنے اپنے انداز سے اپنا فیصلہ بلکہ مبینہ مجرمان کیلئے سزا بھی سنادیتے ہیں۔انڈابھی کچھ دیرمیں ابلتاہے لیکن ہمارے سوشل میڈیا کے منصف کاپی پیسٹ کرنے میں دیر نہیں کرتے۔اگر کسی واٹس گروپ میں دوسولوگ ایڈہوں توان میں سے ڈیڑھ سوممبر ایک ہی واقعہ کی تحریر یاتصویر بار بارشیئرکرتے ہیں، اب بحیثیت قوم سوشل میڈیا پر ہمارا زیادہ تر وقت فضولیات میں گزرتا ہے،جس کے پاس صحافت کی تعلیم وتربیت نہیں اسے بھی سمارٹ فون نے صحافی بنادیا ہے۔شہرقائدؒ میں ایک اداکارہ کی حالیہ دلخراش موت کامعمہ ہویابلوچستان کے پہاڑوں میں ایک مقامی خاتون اورمرد کادوہراقتل ہو، ہمارے خودساختہ تفتیشی تھانیدار ان اندوہناک واقعات کی بنیاد پراپنااپنا چورن بیچنا اورہماری ریاست کامیڈیا ٹرائل شروع کردیتے ہیں۔بعدازاں یہ اپنے جھوٹ کابھانڈا پھوٹ جانے پر شرمندہ یاافسردہ تک نہیں ہوتے، پچانوے فیصد یوٹیوبر بھی منجن فروش ہیں۔جس مقتول خاتون اورمرد کونوبیاہتا جوڑا بتایا جارہا تھا وہ ہرگز میاں بیوی نہیں تھے۔یہ دوہرا قتل پسند یامحبت کے بیاہ کاشاخسانہ بھی نہیں تھا، زنا کاراستہ فنا کاراستہ ہے۔ بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی ایک جہاندیدہ سیاسی شخصیت،سنجیدہ اورسلجھے ہوئے منتظم ہیں،انہوں نے اپنی مستندمعلومات کی بنیاد پر ابہام دور کردیا ہے۔وہ اپنے فرض کی بجاآوری کے دوران کسی دباؤمیں نہیں آتے۔وہ مصلحت پسندنہیں ایک انصاف پسند حکمران ہیں،ان کے پاس بلوچستان کی وزارت داخلہ کاقلمدان بھی رہا ہے وہ اپنے کام میں مداخلت برداشت اور جذباتیت کی بنیادپرفیصلے نہیں کرتے۔ان کے ہوتے ہوئے ڈیگاری میں ہوئی دوہرے قتل کی واردات میں ملوث کوئی بااثر مبینہ قاتل قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا۔یادرکھیں آنرکلنگ ہویادوسرے محرکات عورتوں کے مقابلے مردزیادہ قتل ہوتے ہیں لہٰذاء ڈیگوری سانحہ کوبنیادبناتے ہوئے عورت کارڈ کھیلنا ہرگز جائز نہیں۔راقم کے نزدیک ان واقعات کوجوازبناتے ہوئے اپنی ریاست کورسواکرنیوالے بھی قومی مجرم ہیں، کسی بھی شہری کے قتل کی سزاریاست کونہیں دی جاسکتی۔جوطبقہ آنر کلنگ کو درست نہیں سمجھتا کیا اس کا قومی حمیت کوتارتارکرناجائز ہے۔
اس اندوہناک واقعہ میں صرف پانچ بچوں کی ماں بانو قتل نہیں ہوئی بلکہ اس کے ساتھ پانچ بچوں کاباپ احسان اللہ بھی مارا گیا ہے تاہم ان دونوں کے درمیان کوئی شرعی رشتہ نہیں تھا۔یادرکھیں ہرقتل کے کچھ نہ کچھ محرکات ضرورہوتے ہیں لیکن میں اس طرف نہیں جاناچاہتا،دنیا کاکوئی مہذب معاشرہ ماورائے عدالت قتل کی طرح ناجائز مراسم بھی جائز نہیں مانتا۔جس طرح مقتولہ عورت شیتل نہیں بانو تھی اِس طرح ویڈیو میں واضح ہے مقتل کی طرف جاتے وقت اُس کے ہاتھوں میں قرآن مجید بھی نہیں تھا،سوشل میڈیا پرزیرگردش تحریر کسی عینی شاہد نے نہیں لکھی لہٰذاء ہم اس میں جھوٹ کی ملاوٹ سے انکار نہیں کرسکتے۔یادرکھیں شہزادہ کونین حضرت امام حسین ؑ کوشہید کرنیوالی یذیدی فوج میں کئی حافظ قرآن بھی تھے لہٰذاء کوئی قاتل یاگناہ گار قرآن مجید کے پیچھے نہیں چھپ سکتا۔مٹھی بھر مخصوص ا ورمنحوس لوگ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مادرپدرآزادی کے خواہاں ہیں،ان کے نزدیک شوبزانڈسٹری سمیت مختلف طبقات سے وابستہ مردوزن کے درمیان مصافحہ، معانقہ اوردوسروں کی بیویوں سے معاشقہ ناپسندیدہ فعل نہیں لیکن وہ عزت کے نام پرقتل کو اسلامیت،پاکستانیت اورقومی حمیت پرحملے سے تعبیر کرتے ہیں۔جہاں انسانوں کی عزت کاقتل ہو گا وہاں عزت کے نام پرقتل ہوتے آئے ہیں اورہوتے رہیں گے لہٰذاء قانون سازی اور درست اصلاحات کے بندسے آنرکلنگ کا سیلاب روکاجاسکتا ہے۔ اگرکسی عدالت یانکاح خواں کے پاس ولی کے بغیر کوئی نکاح رجسٹرڈ نہ کیاجائے توسو میں سے سترفیصد آنرکلنگ کے واقعات نہیں ہوں گے۔دوافراد کی بجائے دوخاندانوں کے درمیان جورشتہ طے پائے وہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے۔اگرعدلیہ اورمیڈیا بھی ولی کے بغیر نکاح کوسپورٹ اورپروموٹ نہ کرے تواچھا ہوگا،عزت داراورانصاف کاعلمبردار وہ ہے جواپنی اوردوسروں کی بیٹی کویکساں حقوق دینے کاحامی ہو۔جو ولی کے بغیر دوسروں کی بیٹیوں کانکاح جائز تصور کرتے ہیں وہ اپنی بیٹیوں یابہنوں کو یہ حق کیوں نہیں دیتے،ہمیں یہ دوہرامعیار ختم کرناہوگا۔ ولی کی دعاؤں اوروفاؤں کے ساتھ نکاح کو سہل بنایا جبکہ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ہرقسم کے جہیز کی فراہمی یاوصولی کو مجرمانہ فعل قراردیا جائے۔ ون ڈش کی پابندی کاقانون بھی مذاق بن کررہ گیا ہے، ہر باپ چار سوسے چھ سوافراد کی بارات کے قیام وطعام کابوجھ برداشت نہیں کرسکتا،ریاست بارات کیلئے پچاس سے ستر افراد کی حدمقررکرے،اس طرح سفیدپوش اپنی بیٹیوں کی رخصتی اپنے گھروں سے کرلیاکریں گے۔
میں اپنے موضوع کی طرف واپس آتا ہوں،بہتر ہوگاہمارے سوشل میڈیا کے نادان بیجا تفتیشی ہیجان پیداکرنے کی بجائے ڈیگاری میں ہونیوالے دوہرے قتل کی پیشہ ورانہ تحقیقات اوراس کے ماسٹر مائنڈسمیت باقی ملزمان کے ٹرائل کاانتظار کریں، بہرکیف پنجاب آنرکلنگ کے واقعات میں بلوچستان سمیت دوسرے صوبوں سے بہت آگے ہے تاہم پنجاب کی طرح بلوچستان میں بھی ریاستی رِٹ برقرار ہے لہٰذاء لوگ وہاں بھی انصاف ہوتاہوادیکھیں گے۔بیشک ایک انسان کاقتل پوری انسانیت کاقتل ہے اورکوئی زندہ ضمیر انسان کسی بھی بیگناہ انسان کے ماورائے عدالت قتل کادفاع نہیں کرسکتا تاہم میں پھر کہتاہوں جہاں جہاں انسانوں کی عزت کاقتل ہوگاوہاں وہاں عزت کے نام پرمردوزن قتل ہوتے رہیں گے۔ پاکستان اوربھارت سمیت دنیا بھرمیں آنرکلنگ کے واقعات ہوتے ہیں تاہم عزت کیلئے کشت وخون کاسلسلہ نیا نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ مختلف اقوام کے درمیان زیادہ ترتصادم بھی عزت کے نام پرہوئے ہیں جوعزت اورحمیت کیلئے قتل پرتنقید کرتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے بت پرست بھی اپنے بتوں کی عزت پرآنچ نہیں آنے دیتے۔ دنیا کی ہرقوم کے زندہ ضمیرلوگ اپنے نبیوں کی ناموس اوراپنے قومی وقار کیلئے مرنے مارنے پراتر آتے ہیں۔ناموس رسالتؐ کے پہریداروں غازی علم دین شہیدؒ اورغازی ممتازقادری شہید ؒ کاشمار بھی ان میں ہوتا ہے،اللہ ربّ العزت کے محبوب کی عزت کیلئے جام شہادت نوش کرنیوالے ان دونوں شہیدوں کوجوعزت ملی اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ٹیپو سلطان شہیدؒ نے بھی حمیت کیلئے مزاحمت اورشہادت کاراستہ چنا تھا، ہرانسان حمیت کی اہمیت نہیں سمجھتا۔عزت اورحمیت سے عاری انسان کسی حیوان سے بدترہے، جوانسان عزت نفس سے محروم ہواس کیلئے زندگی ایک قفس سے زیادہ کچھ نہیں۔
عزت کے نام پرقتل عام میں دوہرے معیار کے حامل دوغلے لوگ بھی کلیدی کرداراداکرتے ہیں،جواپنی چبھتی نگاہوں اور گہرازخم لگانیوالی دودھاری زبانوں کے طعنوں یعنی تازیانوں سے عزت دارانسانوں کی حمیت کوجھنجوڑتے بلکہ بھنبھوڑتے ہوئے انہیں بھی مجرم اورقاتل بنا دیتے ہیں۔ ان مخصوص افرادکا سوشل میڈیا پرمتحرک خواتین کی نازیبا ویڈیوزمنظرعام پرآنے کے بعد ایک دوسرے کوفارورڈ کرنااور الٹا ان عورتوں کو بیہودہ کہنا منافقت کی انتہا ہے، یہ حقوق نسواں کے نام نہاد علمبردار خواتین کی نازیباویڈیوزتک رسائی اورا ن کی رسوائی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ان جنسی درندوں کو توقوم کی ان بیٹیوں پربھی رحم نہیں آتا جوآبروریزی کے بعد انصاف کیلئے کٹھن راستہ چنتی ہیں۔ان کی چبھتی نگاہوں اورکاٹ دارزبانوں سے صرف آبروریزی کانشانہ بننے والی خواتین کو پل پل نہیں مرناپڑتابلکہ ان مصیبت زدہ بیٹیوں کے ماں باپ سمیت بہنوں اوربھائیوں کوبھی بدترین ہتک کی آگ میں جھلسنا، اندر ہی اندر گھلنا اوربار بار مرنا پڑتا ہے۔ہم میں سے کون اپنے معاشرے کے ان نام نہاد شرفاء کونہیں جانتا جوکسی خاندان کی بیٹی کوپسندیامحبت کی شادی کیلئے گھر سے بھاگ جانے پراپنی زبان کے نشتر سے روزاس کے اقرباء کوایک نیازخم دیتے ہیں،ہماری شوبزانڈسٹری کوبھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمارا معاشرہ بیٹوں اوربیٹیوں کوایک ترازومیں نہیں تولتا اور ہم میں سے کوئی یہ فرق نہیں مٹاسکتا لہٰذاء بھاگ جانیوالی بیٹیاں تو بھاگ جاتی ہیں لیکن ان کایہ انتہائی قدم پیچھے رہ جانیوالے افراد کے” بھاگ” اجاڑدیتا ہے۔ایک نامحرم اجنبی کیلئے اپنوں سے دوربھاگ جانیوالی بیٹی کی جسارت کے منفی اثرات اورمضمرات سے اس کے خاندان کا ہر فرد متاثر ہوتا ہے۔جوبیٹی بھاگ جائے اس کی بڑی ہمشیرہ کو چار بچوں کے باوجودطلاق ہوجاتی ہے اوربھائی کاجہاں رشتہ طے پایاہوتاہووہاں سے انکار ہوجاتا ہے،بدنصیب ماں باپ وقت سے پہلے ضعیف ہوجاتے ہیں۔اسلام نے بیٹیوں کو اپنے نکاح بارے اپنی پسندناپسند کے اظہار کاحق دیا ہے لیکن چھ ماہ یاچھ سال کی نام نہادپسندیدگی یامحبت کے نام پراپنے ماں باپ اوربھائیوں کے نام پرکالک ملنے اوراپنی “خوشی” پر”خودکش” حملے کااختیار نہیں دیا۔ہرماں باپ اپنے بچوں کی” خوشی” کیلئے ہزاروں باراپنی” خوشیاں ” قربان کرتے ہیں۔آج بھی ہمارا معاشرہ روشن خیالی کے باوجودمجموعی طورپر”پسند”کی شادی کو”ناپسند” کرتا ہے،ہمارے ہاں اپنے اوردوسروں کیلئے معیارات بہت مختلف ہیں۔اسلام دین فطرت ہے لیکن جدت کے نام مادرپدرآزادی کاحامی نہیں۔اسلام نے جہاں مردوزن کوہرجائز حق اورجہاں انہیں اختیار دیا وہاں حدود وقیود بھی مقرر کردیں۔ اگرسورج بھی مشرق سے ابھرنے کے بعد مغرب کی طرف جائے توڈوب جاتا ہے لہٰذاء آزادی اور “اختیار” کے باوجود اپنے ہاتھوں سے” اقدار” کی ڈور نہ چھوڑیں۔