سزا سے متعلق نبی رحمت ﷺ اور ہمارے خود ساختہ محافظانِ دین و ناموسِ رسالت کا رویہ

کسی جرم کی سزا کے حوالے سے رحمۃ للعالیمن ﷺ کا رویہ کیا تھا اور آج کے ہمارے بزعم خویش بڑے بڑے محافظین ِ دین و ناموس رسالت کا رویہ کیا ہے؟ اس سوال پر جس زاویے سے بھی غور کریں صاف نظر آتا ہے کہ موخر الذکر گروہ آپ ﷺکے اسوے سے یکسر دور ہے۔ بہت سی مثالوں کے حوالے سے بات ہو سکتی ہے، یہاں ہم ایک حدیث کی روشنی میں بات کریں گے اور اس سے مترشح کچھ اسباق کی طرف توجہ دلائیں گے۔ پہلے یہ حدیث اور اس کا ترجمہ دیکھیے:

جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ: «وَيْحَكَ، ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ»، قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْحَكَ، ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ»، قَالَ: فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، طَهِّرْنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الرَّابِعَةُ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ: «فِيمَ أُطَهِّرُكَ؟» فَقَالَ: مِنَ الزِّنَى، فَسَأَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبِهِ جُنُونٌ؟» فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ، فَقَالَ: «أَشَرِبَ خَمْرًا؟» فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْكَهَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ، قَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَزَنَيْتَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ۔ ( صحيح مسلم: كِتَابُ الْحُدُودِ ، بَابُ مَنِ اعْتَرَفَ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَى)

“ماعز بن مالک (اسلمی) رضی اللہ تعالی عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم پر افسوس ہے! جاؤ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ کہا: وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’تم پر افسوس! جاؤ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔‘‘ کہا: وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے، پھر آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے۔ تو نبی ﷺ نے (پھر) اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بار یونہی ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: ’’میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں؟‘‘ انھوں نے کہا: زنا سے۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا اسے جنون ہے؟‘‘ تو آپﷺ کو بتایا گیا کہ یہ مجنون نہیں ہے۔ پھر آپ نے پوچھا: ’’کیا اس نے شراب پی ہے؟‘‘ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کا منہ سونگھا ، تو اسے اس سے شراب کی بو نہ آئی۔ کہا: تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا تم نے زنا کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ، پھر آپﷺ نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا۔”
اب زیر بحث مسئلے کے حولالے سے اس حدیث سے ملنے والے چند اسباق ملاحظہ فرمایے:

سزا سے بچانے کی کوشش نہ کہ سزا پر اصرار

اس حدیث میں آپ ﷺ کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ جرم ثابت ہونے سے پہلے حتی المقدور بندے کو اللہ سے رجوع کا موقع دیا جائے۔حضرت ماعزؓ جب اعترافِ زنا کے ساتھ حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے تین بار انہیں واپس بھیجا: کہ “ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرِ اللهَ وَتُبْ إِلَيْهِ “واپس جاؤ، اللہ سے استغفار اور توبہ کرو۔اس میں ہمیں آپ ﷺ کی رحمۃ للعالمینی، احتیاط اور اور توبہ واستغفار کے ذریعے اصلاح کی خواہش کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ گویا آپ ﷺفرما رہے ہیں کہ: یار !جاؤ اللہ سے معاملہ کر لو ، قانون اور نظام کے سامنے معاملہ مت لاو! مگر ہمارے مذہبی رہنماؤ ں کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ کسی ملزم کے لیے ان کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے، اور وہ اسے کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں، بس تختہ دار پر لٹکانا چاہتے ہیں یا کسی خود ساختہ “مجاہدِ ناموس رسالت ” کے ہاتھوں “جہنم واصل” کرنے کے خواہاں ہیں۔بہ الفاظ دیگر آپ ﷺ توبہ کی دعوت دیتے اور معاملے کو رفع دفع کرتے تھے ؛ لوگوں کو سزا سے بچانے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن ہمارے بزعم خود محافظان دین و ناموسِ رسالت معاملے کو مزید پیچیدہ بناتے اور سزا پر اصرار کرتے ہیں۔

شک پر سزا سے بچانا نہ کہ شک کو ماننے سے انکار کرنا

آپ ﷺ نے حتیٰ الامکان ماعزؓ کی سزا کو شک کی بنیاد پر مؤخر کرنے کی کوشش کی۔ پوچھا گیا کہ کہیں وہ پاگل تو نہیں؟ نشے میں تو نہیں؟ یہ سب اس لیے کیا کہ سزا نہ دینی پڑے۔ آپ اسلام کا یہ اہم اصول واضح طور پر لاگو کر رہے ہیں کہ “ادرءوا الحدود بالشبهات”شبہ ہو تو حد نہ لگاؤ”۔مگر آج کے خود ساختہ محافظانِ دین و ناموس ِ رسالت کا حال یہ ہے کہ اگر کسی جگہ مثلا سوشل میڈیا ، واٹس ایپ وغیرہ پر کسی مواد کے حوالے سے کسی پر توہین کا ہلکا یا شک بھی ہوجائے ، تو وہی اسے کافر، گستاخ یا واجب القتل قرار دینے کے لیے کافی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس میں بے شمار شکوک و شبہات ہو سکتے ہیں۔گویا نبی ﷺ شک کی بنیاد پر سزا دینے سے رکتے تھے، ہمارے یہ محافظین دین شک کو دلیل بنا لیتے ہیں۔ اس سے اندازہ کر لیجیے کہ رحمۃ للالمین ﷺ کے رویے اور ان لوگوں کے رویوں میں کس قدر بُعد ہے۔

یقین کو شک میں بدلنے کو کوشش نہ کہ شک کو کویقین میں

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے آپ ﷺ ایسے معاملات میں لوگوں کو سزا سے بچانے کے لیے، کوئی نہ کوئی شک ڈھونڈتے تھے۔ حدیث کی رو سے بات پہلے بھی واضح تھی ، اسی لیے فرمایا تھا کہ جاؤ اللہ سے توبہ کرو، مگر جب ماعز پھر بھی نہ رکے تو آپ ﷺ نے اور طریقوں سے ٹالنا چاہا، کہ معاملہ کسی نہ کسی سطح پر مشکوک ہو جائے،جبھی آپ پوچھ رہے ہیں کہ کہیں یہ پاگل تو نہیں ہوگیا، اس نے شراب تو نہیں پی ہوئی؟ گویا ہر صورت کوئی ایسی بات نکالنا چاہتے ہوں، جس سے وہ قانون کی گرفت سے بچ جائیں، لیکن ہمارے یہان معاملہ الٹ ہے، لوگ مشکوک مسئلے کو دھونس دھاندلی اور بدمعاشی کے زور سے یقینی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی پر توہین مذہب کا الزام لگائیں اور بے چارہ باربار انکار کرے اور معاملے میں سو شکوک ہوں، تب بھی اسے معافی دینے کا تیار نہیں ہوتے، بلکہ کہتے ہیں اسے ہر صورت سزا ہونی چاہیے، کوئی وکیل یا جج یا لکھنے بولنے والا بھی اس پر کسی شک کا اظہار کرے تو اسے بھی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ آپ ﷺممکنہ عذر تلاشتے ہیں اور آپ ﷺ کے یہبزعم خویش عاشق واضح موجود عذر کو بھی نہیں مانتے۔ اب خود دیکھ لیجیے کہ یہ لوگ نبی رحمت ﷺ کے اسوے سےکس قدر دور ہیں!

Author

اپنا تبصرہ لکھیں