دروزی: مشرق وسطیٰ کی خاموش اقلیت اور اسرائیل سے پیچیدہ تعلقات

مشرقِ وسطیٰ کی تہذیبی پیچیدگیوں میں کئی ایسی اقلیتیں موجود ہیں جن کی شناخت، عقائد اور سیاسی کردار ایک خاموش مگر فیصلہ کن اثر رکھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک دروزی برادری ہے، جو اپنے خفیہ عقائد، فلسفیانہ مذہب اور اسٹریٹیجک سیاسی وابستگیوں کے باعث ہمیشہ تحقیق و تجزیہ کا اہم موضوع رہی ہے۔ دروزیوں کا اسرائیل کے ساتھ گہرا تعلق، ان کے عقائد کی اسلامی تاریخ سے وابستگی، اور شیعہ و سنی علماء کی رائے اس مضمون کو اور بھی اہم بنا دیتی ہے۔

دروزی مذہب کی بنیاد گیارہویں صدی میں مصر کی فاطمی خلافت (جو ایک شیعہ اسماعیلی خلافت تھی) کے دور میں رکھی گئی۔ اس وقت کے فاطمی خلیفہ، الحاکم بامراللہ، کو دروزیوں نے “الٰہی مظہر” یعنی Divine Manifestation مانا۔ ان کے پیروکار حمزہ بن علی بن احمد نے اس عقیدے کی تبلیغ کی، اور بعد ازاں محمد بن اسماعیل الدرزی کے نام سے یہ گروہ مشہور ہوا۔ دروزی مذہب نے جلد ہی فاطمی خلافت کے بنیادی نظریات سے ہٹ کر ایک نیا عقائدی و روحانی راستہ اختیار کیا، جو اسلام کے مرکزی دھارے یعنی اہل سنت و اہل تشیع سے الگ ہو گیا۔

دروزی مذہب باطنی، فلسفیانہ اور رازدار عقائد پر مبنی ہے۔ ان کے عقائد میں توحیدِ مطلق، یعنی خدا کی واحدانیت کو عقل و فلسفے کے ذریعے سمجھنا، بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا مختلف شخصیات میں تجلی کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، جن میں الحاکم بامراللہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ دروزی عقیدہ تناسخ پر مبنی ہے، یعنی وہ روح کے ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہونے کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی مذہبی تعلیمات خفیہ ہیں، اور ان کی مذہبی کتابیں جیسے “رسالۃ الحکمۃ” صرف “عقال” یعنی منتخب علماء تک محدود ہیں۔ ان کے مذہب میں اسلامی شریعت کے ظاہری ارکان جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کا عمومی طور پر کوئی عملی اطلاق نہیں ہوتا بلکہ باطنی تشریحات پر زور دیا جاتا ہے۔

دروزیوں کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع دونوں مکاتب فکر کے علماء نے سخت اور اختلافی مؤقف اختیار کیا ہے۔ جمہور اہلِ سنت فقہاء دروزیوں کو اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ امام ابن تیمیہ نے اپنی فتاویٰ میں انہیں “مرتد” اور “کفارِ باطنیہ” کہا اور فرمایا کہ ان سے مسلمانوں جیسا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ دیگر علماء جیسے امام ذہبی، ابن قیم، اور امام نووی بھی اس مؤقف کے قائل رہے ہیں۔ اسی طرح شیعہ اثنا عشری علماء بھی دروزیوں کو “باطنی منحرف فرقہ” سمجھتے ہیں۔ علامہ محمد باقر مجلسی جیسے بزرگ محدثین نے انہیں “غلاة” یعنی غلو کرنے والے فرقوں میں شمار کیا ہے جو امامت یا الٰہیت کے بارے میں مبالغہ آمیز نظریات رکھتے ہیں۔ چونکہ ان کا پس منظر فاطمی خلافت سے جڑا ہے، اس لیے شیعہ علماء ان کے مذہب کو “تحریف شدہ اسماعیلیت” کا انحرافی تسلسل قرار دیتے ہیں۔ دونوں مکاتب فکر میں اس بات پر اجماع پایا جاتا ہے کہ دروزی شریعتِ اسلامیہ کے بنیادی اصولوں سے ہٹے ہوئے ہیں۔ ان کا قرآن کی باطنی تعبیر پر اصرار اور فقہی اصولوں سے انکار انہیں اسلام کی عمومی تعریف سے باہر نکال دیتا ہے۔

آج دروزی لبنان، شام، اسرائیل، اردن اور بعض دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔ لبنان میں ان کی سب سے بڑی آبادی ہے، جو تقریباً چھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ شام کے علاقے جبل الدروز (سویدا) میں ان کی تعداد سات لاکھ تک پہنچتی ہے۔ اسرائیل میں ان کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے، جہاں انہیں مکمل شہری حیثیت حاصل ہے۔ اردن سمیت دیگر ممالک میں وہ اقلیت کے طور پر موجود ہیں۔

اسرائیل میں دروزی برادری کو ایک خاص سماجی و عسکری مقام حاصل ہے۔ 1956 کے بعد سے دروزی نوجوانوں کے لیے اسرائیلی فوج میں بھرتی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ان کی سیاسی نمائندگی اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں بھی موجود ہے، اور دیگر عرب اقلیتوں کے برعکس انہیں نسبتاً بہتر تعلیمی، معاشی اور سماجی سہولیات حاصل ہیں۔ تاہم ان کا یہ رشتہ تنازع کا شکار بھی رہا ہے۔ فلسطینی حلقے دروزیوں کو صیہونی ریاست کا آلہ کار تصور کرتے ہیں۔ 2018 میں اسرائیل کے متنازع “نیشن سٹیٹ لا” کے نفاذ کے بعد، جس میں ریاست اسرائیل کو صرف “یہودیوں کی ریاست” قرار دیا گیا، دروزیوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا اور ان کے درمیان اسرائیل سے وابستگی پر سوالات اٹھنے لگے۔

لبنان اور شام کے دروزی اسرائیل مخالف مؤقف رکھتے ہیں۔ لبنان میں ولید جنبلاط جیسے قائدین اسرائیل کو دشمن قرار دیتے ہیں، جبکہ شام میں دروزی برادری نے ہمیشہ اسرائیلی قبضے اور جارحانہ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ یوں ایک طرف اسرائیل میں دروزی وفادار اقلیت کے طور پر سمجھے جاتے ہیں، اور دوسری طرف خطے کے دیگر ممالک میں وہ اسرائیل کے خلاف بیانیہ رکھنے والوں میں شامل ہیں۔

دروزی ایک ایسی برادری ہے جو عقیدہ میں فلسفی، سیاست میں حقیقت پسند، اور تاریخ میں متنازع رہی ہے۔ شیعہ و سنی علماء کی نظر میں وہ اسلام سے باہر ہیں، جبکہ اسرائیل کی نظر میں وہ ایک وفادار اقلیت ہیں۔ یہ تضاد دروزیوں کی اصل کہانی ہے — بقا اور شناخت کے درمیان معلق ایک قوم۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں