17جولائی 2025 کو وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک ہدایت نامے میں خطیبوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ جمعے کے خطبات میں “ناموسِ رسالت” کے تحفظ پر توجہ مرکوز کریں۔ بظاہر یہ ایک دینی فریضے کا احساس دلانے کی کوشش ہے، لیکن اس کو ذرا سی تنقیدی نظر سے بھی دیکھیں تو یہ تعمیر کی بجائے واضح طور پر تخریب پر منتج ہوتی نظر آتی ہے۔ اس پر واضح سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا یہ ہدایت فکری رہنمائی پر مبنی ہے یا ایک ایسے جذباتی بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش ہے، جس کے نتائج معاشرتی انتشار اور قانون شکنی کی صورت میں نکل سکتے ہیں؟
اس طرح کی ہدایت کا یہ پہلا موقع نہیں ، مختلف مکاتبِ فکر کی مذہبی قیادت کی طرف سے خطبا کو ایسی ہدایات پہلے بھی دی جاتی رہی ہیں اور تسلسل سے دی جاتی رہتی ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے ایسی ہدایات کے ساتھ نہ کوئی فکری رہنمائی پر مبنی سنجیدہ تحقیقی مواد دیا جاتا ہے، نہ قانونی دائرہ کار کی وضاحت، ہوتی ہے، اور نہ ہی اس بات کی تربیت کا کوئی سامان کہ سامعین ایک انتہائی حساس موضوع پر ایسے خطابات کو کس تناظر میں سمجھیں! اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام خطیب محض جوشِ خطابت میں نعرے لگاتے ہیں: ” ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، گستاخ رسول کی سزا سر تن سے جدا۔” ایسے خطبات کا ماحول عمومی طور پر جذبات کو بھڑکانے والا ہوتا ہے، جس میں علمی گفت گو یا فکری وضاحت کے بجائے صرف مخصوص ” غیرتِ ایمانی” کو ایڈریس کیا جاتا ہے۔ایسی تقریروں اور نعروں کو ہمارے معاشرے میں لوگ مخصوص مذہبی عقیدت کی روشنی میں لیتے ہوئے ناموس رسالت کی ایسی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ ان کے یہ خطبا بھی ان تشریحات کو اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ خطبا اس پر تو جوش خطابت زور و شور سے صرف کرتے ہیں کہ ناموس رسالت کا دفاع کیا جائے۔ لیکن یہ موضوع زیر بحث ہی نہیں آتا کہ ناموس رسالت سے فی الواقع مراد کیا ہے؟ اس کےدفاع کی صورت، دائرہ کاراور حدود کیا ہوں؟ جب ان حدود کی وضاحت کے بغیر مجمع کو مشتعل کیا جائے ، تو یہ اشتعال معاشرتی امن کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
ایک اور پہلو جس پر توجہ دینا لازم ہے وہ مذکورہ نوعیت کی ہدایات جاری کرنے والی مذہبی قیادت کی اس کے نتائج سے عملی لاتعلقی ہے۔ ایسے مواقع پر جب کوئی ناخو ش گوار واقعہ پیش آتا ہے، تو یہی قیادت اور اکابرین خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، یا باقاعدہ قانونی لاتعلقی کے بیان حلفی جمع کرا دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہدایت آپ نے دی، تو نتائج کی ذمہ داری سے فرار کیوں؟ اس روش سے نہ صرف عام خطیب تنہا رہ جاتے ہیں، بلکہ وہ سامعین بھی گمراہ ہو تے ہیں ،جنھیں آپ نے کسی واضح فکری یا اخلاقی بنیاد کے بغیر بے مہار مذہبی جذبات کے میدان میں دھکیل دیا ہوتا ہے۔خطیب اور سامعین کے درمیان علم و فہم کا فاصلہ بھی اس بحران کو بڑھاتا ہے۔ جب سامع کو یہ ہی معلوم نہ ہو کہ “ناموسِ رسالت” کی شرعی، قانونی یا تاریخی تعریف کیا ہے؟ تو وہ ہر وہ بات جس سے اسے اختلاف ہو، اسے “گستاخی” قرار دے سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب فکری بحران عملی تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے حالات میں صرف ایک جذباتی نعرہ کسی بھی شخص یا گروہ کے خلاف ہجوم کو کھڑا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مذہبی قیادت کو بھی سوچنا چاہیے کہ اسے اگر ایسی حساس ہدایات جاری کرنی ہی ہیں تو کم ازکم اتنی ذمہ داری کا مظاہرہ تو کرے کہ ان سے قبل اس موضوع پر جامع فقہی و قانونی رہنمائی فراہم کرے؛خطیبوں کو باقاعدہ تربیتی ورکشاپس میں ان موضوعات پر بولنے کے ضوابط سکھائے جائیں۔سامعین کو بھی سکھایا جائے کہ کسی بات کو سننے کے بعد اس کو سمجھنا کیسے ہے اور اس پر عمل کے حدود و قیود کیا ہیں؟ اس سلسلے میں خطبا کی تربیت کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھیں صرف فقہی اور مذہبی متون ہی نہ رٹائے جائیں، بلکہ عصری سماجی پیچیدگیوں ، زمینی حقائق اورقانونی ڈھانچےسے بھی واقفیت بہم پہنچائی جائے۔
ناموسِ رسالت کا تحفظ صرف نعروں اور خطبوں سے نہیں، علم، حکمت، اور قانونی شعور سے ممکن ہے۔ بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ اس نازک اور حساس موضوع پرمذہبی، معاشرتی ، قانونی اور عالمی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے بات کی جائے ، تاکہ ،مذہب کو مثبت فکری و عملی رہنمائی اور معاشرے کی تعمیر کا منبع باور کرایا جاسکے، نہ کہ بے احتیاطی سے اشتعال اور تخریب و تشدد کا ذمہ دار۔