ایران سے افغان شہریوں کی واپسی کی رفتار اور تعداد کمزور امدادی نظام پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ، ایران سے واپس آنے والے افغان شہریوں کی تعداد اور رفتار نے افغانستان کے پہلے سے نازک امدادی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، کیونکہ روزانہ تھکے ہوئے، صدمے کا شکار اور مکمل طور پر انسانی امداد پر انحصار کرنے پر مجبوردسیوں ہزار افراد سرحد پار کر رہے ہیں ۔

اقوام متحدہ کے مطابق، 2024 کے آغاز سے اب تک 14 لاکھ سے زائد افراد افغانستان واپس آ چکے ہیں یا انہیں واپس بھیجا گیا ہے، جن میں سے 10 لاکھ سے زیادہ صرف ایران سے آئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق،2023میں ایران اور پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کے لیے الگ الگ مہمات شروع کیں، جن میں ڈیڈ لائنز دی گئیں اور انتباہ کیا گیا کہ ،اگر وہ خود سے نہ گئے تو انہیں زبردستی نکال دیا جائے گا۔ دونوں حکومتوں کا کہنا ہے کہ، وہ افغان شہریوں کو مخصوص طور پر نشانہ نہیں بنا رہیں، حالانکہ افغانستان کے لاکھوں شہری برسوں سے جنگ، غربت یا طالبان کے ظلم سے بچنے کے لیے ان ممالک میں پناہ لیتے رہے ہیں۔

افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ،روزا اوتونبایوا نے ایران کے قریب اسلام قلعہ بارڈر کا دورہ کیا اور عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا کہ، واپسیوں کی بڑی تعداد ، جن میں سے اکثر اچانک اور غیر ارادی ہیں ، عالمی برادری کے لیے خطرے کی گھنٹی ہونی چاہئیں۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ترسیلات زر میں کمی، روزگار کے دباؤ اور نقل مکانی کے دہرائے جانے والے چکر نہ صرف افغان معاشرے کو مزید غیر مستحکم کریں گے ،بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن جائیں گے۔

ایران سے واپسی کی رفتار جون میں عروج پر پہنچ گئی، جب ایرانی حکومت نے 20 مارچ کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ، تمام ‘غیر دستاویزی’ افغان ملک چھوڑ دیں۔ صرف 25 جون کو اقوام متحدہ کے ادارے نے 28,000 سے زائد افغانوں کی واپسی ریکارڈ کی۔

زیادہ تر افغان شہری انسانی امداد کے سہارے زندہ ہیں، لیکن عالمی سطح پر فنڈنگ میں شدید کمی کے باعث تعلیم اور صحت جیسے اہم منصوبے ختم کیے جا رہے ہیں۔

ریڈ کراس فیڈریشن کی نکول فان باتن برگ کے مطابق، ایران سے واپس آنے والے افغان بچے خارش، بخار اور دیگر بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ سرحدی علاقوں میں شدید گرمی اور بدتر حالات نے ان کی صحت پر اثر ڈالا ہے۔ ان کی ٹیم روزانہ سینکڑوں بچوں کو ان کے والدین سے دوبارہ ملاتی ہے جو ہجوم اور افراتفری میں بچھڑ گئے ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ، افغانستان ایک نظر انداز کیا گیا بحران ہے۔ دنیا بھر میں اتنے زیادہ مسائل ہیں کہ، یہ المیہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔

پچھلے ہفتے ناروے کی ریفیوجی کونسل نے بتایا کہ، ان کے بہت سے کارکن خود متاثرہ خاندانوں کو اپنے گھروں میں پناہ دے رہے ہیں۔ مقامی حکام اپنی محدود دستیاب وسائل کے ذریعے امداد کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ نظام اتنی بڑی انسانی ضرورت کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں