سیاحت ،پاک سرزمین اور بائیکرز(کالم:محمد عمیر منہاس)

سیاحت کا پہلا تعارف البیرونی نے مجھے کروایا جس کا ذکر میں نے برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں پڑھا ۔

جماعت ہشتم میں تھا تو دنیا کا نقشہ میرے ہاتھ لگا جسے بڑے تجسس سے دیکھنا شروع کیا اور کرکٹ کا مداح ہونے کی وجہ سے سب سے پہلے غرب الہند ( ویسٹ انڈیز ) کو تلاش کرنا شروع کیا لیکن ناکام رہا ، ورلڈ میپ پر انگلیاں پھیرتے ہوئے ایشیا سے افریقہ تک پہنچ گیا لیکن ویسٹ انڈیز کے نام کا کوئی ملک نظر نا آیا۔

پھر آہستہ آہستہ سمجھ آیا یہ کوئی ایک ملک نہیں بلکہ کئی جزائر پر مشتمل ایک متحدہ کرکٹ ٹیم ہے ، جو بحر اوقیانوس میں امریکا کے قریب واقع ہیں ، جنہیں کریبین آئی لینڈز بھی کہا جاتا ہے جن میں بارباڈوس ، جمیکا ، سینٹ لوشیا اور ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو جیسے جزائر بھی شامل ہے جہاں دنیائے کرکٹ کے سب سے دلکش بلے باز برائن چارلس لارا 2 مئی 1969 کو سانتا کروز کے قصبے میں پیدا ہوئے ۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی دنیا کی سیاحت کی جسے میں نے بچپن میں ورلڈ میپ پر ہی کرنا شروع کر دیا تھا ، شمالی افریقہ سے لے کر جنوبی افریقہ تک کے بیسیوں ملک نقشے میں تلاش کئے اور ان کے دارالحکومتوں کے نام ذہن نشین کرتا گیا ۔

پھر سلسلہ چل نکلا ، کئی کتب خانوں میں جا کر سفر نامے پڑھے دوسروں ممالک کی سیر ان کتابوں سے میسر آئی اس وقت سب سے زیادہ دلچسپ ملک اندلس محسوس ہوا جسے ہسپانیہ بھی کہتے ہیں۔

غرناطہ ، قرطبہ ، اور الحمرا کے بارے میں پڑھتے پڑھتے انسان خود کو اس زمانے میں محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ ہم 90 کی دہائی کی نسل کے ساتھ دو شخصیات کی نرگسیت بڑی گہری ہے ، ایک محمد بن قاسم اور دوسرے طارق بن زیاد جس نے اسپین میں جبرالٹر کے موقع پر اپنی فوج سے کہا تھا ‘ اپنی کشتیاں جلا دو ‘ بہرحال اس جملے کا مستند حوالہ ملنا مشکل ہے ، کیونکہ اندلس کی فتح 92 ہجری میں ہوئی اور یہ من گھڑت بات تاریخ میں پہلی بار چھٹی صدی ہجری میں لکھی گئی یعنی چاڑھے سو سال بعد ، اس سے پہلے کی مستند تاریخی کتب میں اس بات ذکر نہیں ملتا۔

بہرحال یہ قضیے پھر کبھی چھیڑیں گے،

آج کے تعارفی کالم میں سیاحت پر ہی بات ہو گی، تو پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ چلتا رہا اور ایران سے لے کر ہندستان تک یورپ سے لے کر امریکا تک روس سے لے کر چین و جاپان تک کے سفرنامے پڑھ دیے ، لیکن خود سے کہیں نکلنے کا سامان نا بن پایا ، پھر ہوا یو کہ 2013 میں الحمرا ہال میں لگی ایک تصویری نمائش کے موقع پر ایک شخص سے ملاقات نے میرے لیے کم از کم ملکی سطح کی سیر و سیاحت کے دروازے کھول دیے ۔

یہ تھے جہاں گرد مکرم ترین خان جنہیں نے مجھے ملنے کی دعوت دی اور نمبر دے کر کہا اب میں آپ کو تنگ کرو گا ،پہلے تو میں سمجھ نا پایا لیکن جب ان کے برقی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا تو سمجھ آئی کہ یہ کیا چاہتے ہیں ، یعنی ایسی محفلیں سجاتے ہیں جہاں سیاحت کے شوقین افراد جمع ہوتے ہیں اور اپنی اپنی سفر کہانیاں شئیر کرتے ہیں۔

کوئی کشمیر کی نیلم وادی کی داستان سنا رہا ہے تو کوئی نئی نئی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی کمراٹ وادی کی، پھر کیا تھا ایک سلسلہ چل نکلا اور محافل سجتی گئیں اور کم از کم اندرون لاہور کو ایکسپلورر کرنے کے کام کا آغاز کیا ، سب سے پہلے بارہ دروازے اور ایک موری کا نقشہ ذہن میں بٹھایااوربھاٹی سے ٹیکسالی دروازے تک کے پرانے لاہور کو متعدد بار دیکھا ، بھاٹی گیٹ کے اندر موجود فقیر خانہ ایک ایسا منفرد میوزیم ہیں جہاں آپ کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانے کی اوریجنل درباری اشیاء دیکھنے کو ملیں گی ، کیونکہ جن صاحب نے یہ اہتمام کر رکھا ہے ان کے دادا دربار رنجیت سنگھ میں کلیدی وزارت پر اپنے فرائض انجام دے چکے تھے، میوزیم کے رکھوالے جنہیں ہم شاہ جی کہتے ہیں اور وہ خود کو فقیر ، رنجیت سنگھ اور مائی موراں کی پریم کہانی بڑے مسہور کن انداز میں سناتے ہیں ۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ اس دور میں لاہور کے شاہ عالم گیٹ کے اس علاقے میں واقع ان کی اسی رہائش گاہ سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کئی سرکاری احکامات جاری کیے جن کے نیچے یہ عبارت درج ہوتی تھی، ‘جاری کردہ کوٹھا مائی موراں، محبوبہ مہاراجہ رنجیت سنگھ ‘۔

واہ واہ سبحان اللہ کیا شاہی عشق فرمایا محترم جناب رنجیت سنگھ صاحب نے پنجاب کے ہیرو مہاراجہ کی پریم کہانی سننے اور وہاں رکھے گئے شاہی دربار کے نوادرات کو دیکھنے کے بعد بھوک نے ستایا تو تلاش کئے ذائقے دار ڈھابے جہاں ملتے ہیں اندرون شہر کے حقیقی ذائقے، لاہوریوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہمیشہ ذائقے دار جگہ پر ہی رش بناتے ہیں ، جو آسان طریقہ ہے کسی اچھے فوڈ پوائنٹ کو فکس کرنے کا ، لوہاری دروازے کے اندر چند فرلانگ پر گمٹی بازار میں 1974 سے پوری آب و تاب سے موجود ہے

حاجی محمد جاوید لسی والے جسے عروف عام میں جیدا لسی والا کہتے ہیں ۔

دہی کی ملائی سے بھرپور جیدے کی لسی ہو یا پرانی دلی سے درآمد شدہ حاجی کی نہاری ، مہر بشیر حلوائی کا ناشتہ جس میں میری فیورٹ مٹن ٹکی یا لوہاری گیٹ کے باہر بیٹھے کالے کا دیسی گھی میں بھنا سوجی کا حلوا بھاٹی سے لوہاری گیٹ کے اندر پرانی گلیوں میں گھومتے اتنے ناشتے تو آپ چھکتے چھکتے ہی کر جائیں ۔

آنے والے دنوں میں سیاحتی کہانیوں کو بائیکز کے زریعے منسلک کرکے ایک انوکھے انداز میں آپ کو سنائیں گے ۔

اپنا تبصرہ لکھیں