گزشتہ روز صوبہ پنجاب نے اپنا بجٹ پیش کیا ہے ۔ میں یہاں بجٹ کے اعدادو شمار بیان کر کے آپ کو بور نہیں کرنا چاہتا۔البتہ چند اہم باتوں کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔ایک عام پاکستانی شہری ہونے کے ناتے ہمیں دیکھنا پڑتا ہے کہ اس بجٹ میں ایک مزدور کی تنخواہ کیا ہوگی ؟ غریب کے بچوں کی تعلیم کیلئے سکول اور اساتذہ میسر ہونگے یا نہیں ، بیمار دوائی لے پائیں گے یا بدستور ہسپتالوں کے فرشوں پر ایڑیاں رگڑتے ہوئے عالم بالا رخصت ہو جائیں گے ۔
احباب جانتے ہیں کہ میرا پنجاب کی حکمران جماعت سے کسی قسم کا کوئی سیاسی تعلق یا واسطہ نہیں ہے ۔میں بیرون ملک رہتا ہوں مجھے ان سے کوئی لالچ یا غرض بھی لاحق نہیں ہے ۔ہاں ،جہاں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ اچھا ہوا ہے ،تحسین کر دیتے ہیں اور جہاں لگتا ہے کہ کھچ ماری جا رہی ہے برملا الفاظ میں اس کی مذمت بھی کرتے ہیں ۔پنجاب حکومت کے بجٹ میں چند مثبت پہلو ہیں جن کا اعتراف کرنا ضروری ہے ۔
حالیہ بجٹ میں مزدور کی کم از کم تنخواہ چالیس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اگرچہ چالیس ہزار میں بھی ایک گھر کا ماہانہ بجٹ بنانا بہت مشکل ہوتاہے تاہم پھر بھی یہ ماضی کی نسبت ایک اچھا فیصلہ ہے ۔ حکومت پنجاب کو اپنے فیصلے کی پاسداری کروانی چاہئے ۔دفتروں میں کام کرنے والے آفس بوائے ، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں کام کرنے والے ملازمین کو چالیس ہزار تنخواہ کا حصول یقینی بنانے کیلئے ٹھوس میکانزم بنانا چاہئے ۔اسی طرح تعلیم کیلئے 811 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو ماضی کے مقابلے میں 127 فیصدزیادہ ہیں ۔تعلیم کیلئے مختص رقم میں سے ہونہار طلبہ کو 15 ارب روپے کے سکالر شپس دئیے جائیں گے جبکہ ساڑھے چار ارب روپے سے طلبہ کو وضائف دینے کا منصوبہ ہے ۔اس طرح سکولوں کی بہتری کیلئے 5 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔یونیورسٹی اور کالجوں کے ایک لاکھ بارہ ہزار طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کرنے کیلئے بھی بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔
اگرچہ اس پر پنجاب حکومت کے مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ لیپ ٹاپ سکیم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے جاری کی گئی ہے ۔اس موضوع پر پھر کسی دن لکھوں گا ۔ابھی اپنا موضوع بجٹ کو ہی رکھتے ہیں ۔صحت ہر انسان کا بنیادی مسئلہ ہے ، یہ خوش آئند امر ہے کہ پنجاب حکومت نے ماضی کی نسبت اس بار صحت کیلئے زیادہ بجٹ رکھا ہے ۔ صحت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 181 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں 450 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔یوں صحت کیلئے چھ سو اکتیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔اس میں سے نواز شریف کینسر ہسپتال کیلئے 14 ارب روپے کا فنڈ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ اس سال 12 ارب روپے مزیدمختص کیے گئے ہیں۔نواز شریف آف کارڈیالوجی کیلئے 2.6 ارب روپے مختص ہوئے ہیں جبکہ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کے قیام اور زمین کے حصول کے لیے 109 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
صحت کیلئے اتنی خطیر رقم کا مختص ہونا خوش آئند ہے مگر ہر نئے منصوبے کا نام نواز شریف اور مریم نواز شریف رکھا جانا ایک عامیانہ طرز عمل ہے ۔اس طرح اپنے ناموں کی تشہیر ندیدہ پن اور خود پسندی کا مظہر ہے۔ ممکن ہو سکے تو پنجاب حکومت کو اس سطحی طرز عمل سے اجتناب کرنا چاہئے۔کیونکہ جن پیسوں سے یہ منصوبے بنائے جا رہے ہیں جناب نواز شریف یا وزیر اعلی پنجاب اپنا جیب سے خرچ نہیں کر رہے بلکہ یہ عوام کے پیسے ہیں اور عوام پر ہی خرچ ہو رہے ہیں ۔عوام کے پیسوں سے بننے والے ہسپتال اور تعلیمی اداروں کو اپنے نام سے منسوب کرنا مستحسن عمل نہیں ہوسکتا ۔ممکن ہے پنجاب کے بجٹ میں اور بھی کچھ اچھا ہو ،اور ممکن ہے بجٹ میں بہت کچھ غلط بھی ہو تاہم مزدور کی کم از کم تنخواہ،تعلیم اور صحت کیلئے یہ بجٹ اچھا ہے ۔اس کی تعریف ہونی چاہئے۔