ایران پر حملہ کر دیا گیاہے ۔یہ حملہ تقریبا 200 طیاروں سے 100اہداف پر کیا گیا ہے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری ، پاسدران انقلاب کے چیف جنرل حسین سلامی ،ڈاکٹر تہرانچی ،جنرل غلام علی رشید اور فریدون عباسی اور متعدد IRGC کمانڈرشہید ہوئے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنے لیے “تلخ قسمت کا انتخاب کیا، جس کا سامنا اسے کرنا ہی پڑے گا”۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا تھا اس لئے اس کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا نیو کلئیر پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے ۔
یہی وہ بنیادی تنازعہ ہے جو دونوں ممالک کے مابین سن 2000 سے چلا آرہا ہے ۔گزشتہ سال اپریل میں ایران نے اسرائیل پر 300ڈرونز میزائل داغے تھے ،جواب میں اسرائیل نے شام میں ایرانی قونصل خانے اور ایران ایئر ڈیفنس پر حملے کئے تھے ۔اس طرح گزشتہ سال اکتوبر میں بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر حملے کئے تھے ۔2019سے 2024کے دوران ایران پر متعدد حملے کئے گئے ہیں جس میں ایران کی کئی شخصیات نشانہ بنی۔
دراصل ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ایران باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ۔یہی وجہ ہے کہ دوسری جانب سے بھی ایران کے ساتھ مخاصمت رکھی جاتی ہے ۔ایران نے اسلامی انقلاب کے فوری بعد حزب اللہ کو مالی و فوجی امداد دینا شروع کر دی تھی جو آج بھی جاری ہے دوسری جانب اسرائیل حزب اللہ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے ساتھ کئی بار جنگ لڑ چکا ہے بلکہ ابھی بھی حالت جنگ میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان، شام، عراق، حتیٰ کہ یمن تک ہر محاذ پر یہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں آمنے سامنے ہیں ۔
اس ساری صورتحال میں امریکہ کھل کر اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ حالیہ حملے میں بھی امریکہ نے اپنا فوجی اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا ہے ۔اگرچہ امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس لڑائی میں شامل نہیں ہیں، تاہم ماضی کو سامنے رکھا جائے تو اس انکار کی کوئی حیثیت نہیں بچتی۔بائیس ماہ سے اہلیان غزہ پر گولے برسائے جا رہے ہیں جس سے تقریبا ایک لاکھ لوگ شہید ہوچکے ہیں ۔جبکہ مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ظاہر ہے جب ظالم یا بدمعاش کا کوئی راستہ روکنے والا نہیں ہوتا تو وہ مزید جرات اختیار کر لیتا ہے اور کھل کر جارحیت کا ارتکاب کرتا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل آگے سے آگے بڑھتا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں سے زیادہ تو غیر مسلم ممالک نے اسرائیل کی مذمت کی ہے اور جنگ روکنے کا کہا ہے ۔ایران اب کیا کرے گا ؟ یہ تو ایک دو دن میں سامنے آجائے گا،البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران ترنوالا نہیں بنے گا ،ایران کے پاس لڑنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے ۔ اگر اس بار بھی ایران اسرائیل کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرلیتا ہے یا کمزور جواب دے کر دوبارہ مذاکرات کی میز کو ترجیح دیتا ہے تو پھر دنیا بھر میں اسرائیلی بالا دستی قائم ہونے سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔ جبکہ مسلم ممالک کے عوام میں مایوسی پیدا ہوگی کہ وہ ظالموں کے سامنے بھیڑ بکریوں کی مانند ہیں ، کوئی بھی انہیں جب چاہے مار سکتا ہے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگھاڑ سکتے ۔
اگرچہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی عوام کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ ہم نے یہ جنگ شروع نہیں کی البتہ یہ جنگ ختم ہم کریں گے ۔اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے شیر کی دم کو ہاتھ لگایا ہے جس کے نتائج اس کی ہلاکت پر منتج ہونگے ۔اللہ خیر والا معاملہ فرمائے ۔