بھارتی زیر انتظام کشمیر میں پولیس نے 25 کتابوں پر پابندی عائد کرنے کے بعد مختلف علاقوں میں بک شاپس، اسٹالز اور پبلشنگ ہاؤسز پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کتب میں معروف ادیبہ آروندھتی رائے سمیت کئی ملکی و غیر ملکی مصنفین کی تصانیف شامل ہیں، جن پر ’’علیحدگی پسند نظریات‘‘، ’’بھارت مخالف بیانیہ‘‘ اور ’’تاریخی حقائق کو مسخ کرنے‘‘ کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی اس فہرست کے اجرا کے بعد کی گئی جس میں ان کتابوں کو ’’عوامی امن و امان کے لیے خطرہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ فہرست میں آئینی ماہر اے جی نورانی، مورخ وکٹیوریا شوفیلڈ، سمنتر بوس اور دیگر مصنفین کی تحریریں بھی شامل ہیں، جو کشمیر کی تاریخ، سیاست اور بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی ہیں۔
پابندی کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب نئی دہلی کی جانب سے براہِ راست حکمرانی نافذ کرنے کے اقدام کو چھ سال مکمل ہوئے۔ اس موقع پر حکومتی بیانیہ مضبوط کرنے اور متبادل نقطہ نظر کو محدود کرنے کی کوششیں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
آروندھتی رائے کی کتاب آزادی: فریڈم، فاشزم، فکشن کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس میں مصنفہ نے کشمیر کی صورتحال اور بھارتی ریاستی اقدامات پر شدید تنقید کی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اظہار رائے کی آزادی پر براہِ راست حملہ اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔
مقامی بک سیلرز کا کہنا ہے کہ چھاپوں کے دوران درجنوں کاپیاں ضبط کر لی گئیں، جبکہ اشاعت اور ترسیل کا نیٹ ورک بھی متاثر ہوا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام کو جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔