یمن میں جاری لڑائی نے ملک کے پہلے ہی کمزور طبی نظام کو شدید بحران سے دوچار کردیا ہے، جہاں ڈاکٹروں اور عالمی طبی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ تنازع مزید پھیلا تو کئی علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات مکمل طور پر معطل ہوسکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 6 اگست سے 29 ستمبر کے دوران یمن میں جاری لڑائی کے نتیجے میں 4 ہزار 481 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، جن میں 838 افراد جان سے گئے۔
تشدد میں اضافے کے باعث ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جس سے پہلے ہی محدود سہولیات رکھنے والے ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت پر مریضوں کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنگ سے پہلے بھی یمن کے صرف تقریباً 60 فیصد طبی مراکز مکمل طور پر فعال تھے، جبکہ حالیہ لڑائی کے دوران متعدد مراکز کو نقصان پہنچا یا انہیں کام بند کرنا پڑا۔
طبی سہولیات میں ادویات، آکسیجن، ایندھن، خون اور آپریشن کے ضروری سامان کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ بعض علاقوں میں زخمیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث زچگی کے وارڈز تک کو ہنگامی علاج کے مراکز میں تبدیل کرنا پڑا ہے۔
جنگ کے ساتھ بچوں میں غذائی قلت، ہیضے، خسرے اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ یونیسیف کے مطابق حالیہ ہفتوں میں قابلِ رسائی علاقوں میں تقریباً 2 ہزار 900 بچوں کی طبی جانچ کی گئی، جن میں ایک چوتھائی سے زیادہ شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لڑائی کا سلسلہ جاری رہا تو صحت کے شعبے پر پڑنے والا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور لاکھوں متاثرہ افراد کے لیے بنیادی علاج تک رسائی مشکل ہوجائے گی۔