یوم اساتذہ کے موقع پر صدر شوکت مرزیایوف کی جانب سے بڑے اعلانات

ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے یومِ اساتذہ و رہنماؤں کے موقع پر تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد سے ملاقات میں اسکولوں، پیشہ ورانہ تعلیم اور جامعات کے نظام میں مزید اصلاحات کے لیے متعدد نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے، بیرونِ ملک تربیت، نجی تعلیمی اداروں کی معاونت اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید شعبوں میں تعلیم کے فروغ کے منصوبے شامل ہیں۔

صدر مرزیایوف نے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت تعلیم اور کام کے طریقوں کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے، تاہم کوئی ٹیکنالوجی استاد کی طرح بچے کے دل تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس میں وطن سے محبت اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرسکتی ہے۔

ملاقات کے دوران تعلیم اور سائنس کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ریاستی اعزازات بھی دیے گئے۔ اس موقع پر تمام تعلیمی سطحوں پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کے لیے عبداللہ اولوغی کے نام سے ایک الگ ریاستی اعزاز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جس کا پہلا اعزاز آئندہ سال یومِ اساتذہ سے قبل دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

تعلیمی انفراسٹرکچر سے معیارِ تعلیم تک

صدر نے کہا کہ نئے ازبکستان کی تعمیر میں تعلیم کا فروغ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 18 لاکھ بچوں کے لیے پری اسکول مراکز اور 15 لاکھ طلبہ کے لیے اسکول تعمیر کیے گئے، جبکہ 10 ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب توجہ صرف عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ تعلیم کے معیار اور نصاب کے مواد کو بہتر بنانا زیادہ اہم ہے۔

اسی سلسلے میں 2018 سے نئی نسل کی درسی کتب کی تیاری کا عمل جاری ہے۔ رواں سال 324 درسی کتب کو 400 سے زائد ماہرین کی شمولیت سے ازسرنو مرتب کیا گیا، جن میں قومی اقدار، ماحولیاتی ذمہ داری، ڈیجیٹل اور مالیاتی خواندگی کے ساتھ آزادانہ اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینے پر توجہ دی گئی ہے۔ بالائی جماعتوں کی درسی کتب کی تجدید 2030 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

طلبہ کی عالمی سطح پر کارکردگی میں بہتری

تعلیمی اصلاحات کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے اجلاس میں بتایا گیا کہ ازبکستان کے 15 سالہ طلبہ نے پیسا کے سائنس سے متعلق جائزے میں 32 درجے بہتری حاصل کرتے ہوئے 48ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

رواں سال ازبک طلبہ نے مختلف عالمی سطح کے بین الاقوامی اولمپیاڈز میں 228 تمغے جیتے، جبکہ اسکول کی سطح پر غیر ملکی زبانوں اور مختلف تعلیمی مضامین کے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

اساتذہ کے حوالے سے بھی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں بین الاقوامی اور قومی سرٹیفکیٹ رکھنے والے اساتذہ کی تعداد 29 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ 43 ہزار ہوگئی، جبکہ اسکولوں میں تدریسی عملے کی کمی تین گنا کم ہوئی ہے۔ اس وقت 40 ہزار اساتذہ تقریباً ایک ہزار ڈالر کے مساوی ماہانہ تنخواہ حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ایک ہزار 500 اساتذہ کی آمدن دو ہزار ڈالر سے زیادہ ہے۔

اساتذہ کے لیے نئے مراعاتی اقدامات

صدر نے ریاضی، طبیعیات، کیمیا اور حیاتیات جیسے مضامین کی تدریس کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت کی۔ 25 سے زائد طلبہ والی جماعتوں میں ان مضامین کو دو الگ گروپوں میں پڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

قومی سرٹیفکیٹ رکھنے والے اساتذہ کو بنیادی تنخواہ پر 50 فیصد اضافی الاؤنس دینے کا اعلان کیا گیا، جبکہ ہر سال 208 اضلاع اور شہروں کے نمایاں اساتذہ کو اعزازات دینے اور ایک ہزار اساتذہ کو بیرونِ ملک تربیتی پروگراموں میں بھیجنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

اولمپیاڈ کے فاتح طلبہ تیار کرنے والے اساتذہ کو براہِ راست اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پرائمری اسکول کے طلبہ کے لیے بھی مضموناتی اولمپیاڈ شروع کیے جائیں گے، جبکہ آئندہ سال چوتھی جماعت کے مقابلوں کے فاتح طلبہ کو کمپیوٹر اور ان کے اساتذہ کو مرحلے کے مطابق نقد انعامات دیے جائیں گے۔

100 اسکولوں میں مضامین انگریزی میں پڑھانے کا منصوبہ

آئندہ تعلیمی سال سے 100 اسکولوں میں ریاضی، کمپیوٹر سائنس اور قدرتی علوم مکمل طور پر انگریزی زبان میں پڑھانے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں شامل اساتذہ اور پری اسکول تیاری کے گروپوں کے معلمین کو 100 فیصد اضافی تنخواہ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اسکولوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے ’کوالٹی انڈیکس‘ متعارف کرایا جائے گا، جس کے تحت تعلیمی اداروں کو طلبہ کے نتائج اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی بنیاد پر مختلف زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔

نجی اسکولوں اور خصوصی بچوں کے لیے اقدامات

اسکولوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے نجی تعلیمی اداروں کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔ 52 ایسے اضلاع میں جہاں اسکولوں پر دباؤ زیادہ ہے، نجی اسکول قائم کرنے کے لیے رعایتی قرضے اور سبسڈی فراہم کی جائیں گی۔

سرکاری ملکیت کی خالی عمارتیں نجی اسکولوں کو 10 سال تک کرائے کے بغیر دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جبکہ بین الاقوامی تعلیمی منظوری کی نصف لاگت حکومت برداشت کرے گی۔ خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے جامع تعلیمی نظام کو بھی وسعت دی جارہی ہے۔ گزشتہ دو برس میں ایسے اسکولوں کی تعداد تقریباً پانچ گنا بڑھ کر 3 ہزار 591 ہوگئی ہے۔

پیشہ ورانہ تعلیم میں بھی اصلاحات

پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں گزشتہ دو برس کے دوران 104 ٹیکنیکل کالجوں میں بین الاقوامی پروگرام متعارف کرائے گئے۔ ان اداروں اور 25 ہزار کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد نوجوان تعلیم جاری رکھتے ہوئے آمدن حاصل کر رہے ہیں۔

دوہری تعلیم کے نظام کے تحت پیشہ سیکھنے والے طلبہ کو 13 لاکھ ازبک سوم تک وظائف دیے جا رہے ہیں۔ آئندہ سال بین الاقوامی پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ رکھنے والے انسٹرکٹرز کو 50 فیصد اضافی الاؤنس دیا جائے گا، جبکہ ہر سال 500 انسٹرکٹرز کو بیرونِ ملک تربیت کے لیے بھیجا جائے گا۔

’نئے ازبکستان کے معمار‘ کے نام سے منعقد ہونے والے پیشہ ورانہ مہارت کے پہلے مقابلے میں ایک لاکھ 70 ہزار طلبہ نے شرکت کی۔ یہ مقابلہ ہر سال منعقد ہوگا اور نمایاں طلبہ کو 2028 میں ٹوکیو میں ہونے والے ورلڈ اسکلز مقابلے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

جامعات میں دوہری تعلیم اور عالمی روابط

ازبکستان میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد 16 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ سات جامعات نے 17 مختلف مضامین میں عالمی درجہ بندی میں جگہ بنائی ہے۔

صدر شوکت مرزیایوف نے تاہم جامعات کے نصاب اور ماہر افرادی قوت کی تیاری کے معیار پر مزید توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ خاص طور پر انجینئرنگ اور طبی جامعات کو جدید شعبوں میں نئے تدریسی مواد تیار کرنے اور عالمی تعلیمی کتب کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی ہدایت کی گئی۔

اگلے سال 75 جامعات میں ’ادارہ، یونیورسٹی اور ہدفی ماہر‘ کے اصول پر دوہری تعلیم کا نظام شروع کیا جائے گا، جبکہ 2028 تک اسے ملک کی تمام جامعات تک وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔

اس نظام کے تحت کاروباری ادارے اپنی ضروریات کے مطابق ماہرین کی تربیت کی درخواست دیں گے، طلبہ کا انتخاب انٹرویوز کے ذریعے ہوگا اور ملازمت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی اجرت کا نصف حکومت ادا کرے گی۔

300 عالمی جامعات کے کیمپس ازبکستان لانے کا ہدف

صدر مرزیایوف نے دنیا کی 300 معروف جامعات کے برانچ کیمپس ازبکستان میں قائم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا۔ نجی جامعات کی جانب سے عالمی اداروں کے کیمپس قائم کرنے کی صورت میں لیبارٹریوں، آلات، برانڈ کے استعمال اور کیمپس کی ترقی سے متعلق اخراجات کے ایک حصے کی تلافی کی جائے گی۔

ان شراکت داریوں میں انجینئرنگ، زراعت و آبی انتظام، توانائی، مصنوعی ذہانت اور طب کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر صدر مرزیایوف نے اساتذہ کو پیشہ ورانہ دن کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ استاد کی قدر کرنا صرف ایک پیشے سے وابستہ فرد کی قدر کرنا نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کی قدر کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں