یورپ میں بڑھتے ہوئے امیگرنٹس: کیا یورپ اپنی آبادی کی شناخت کھو دے گا؟

یورپ، خصوصاً جرمنی میں، حالیہ برسوں کے دوران ہجرت اور آبادی کی  تبدیلی (Demographic Change)  اہم سیاسی اور سماجی موضوع بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی کو  ایک بڑے خدشے کے طور پر بھی لیا جاتا ہے،جس  کے تحت بعض حلقے “Population Replacement” یا “Great Replacement Theory” جیسی اصطلاحات بھی استعمال کرتے ہیں۔جرمنی کے ساتھ ساتھ  فرانس، نیدرلینڈز، اٹلی، سویڈن اور دیگر کئی ممالک میں امیگریشن کے حق اور مخالفت میں سیاسی جماعتیں سرگرم ہیں۔ بعض جماعتوں کا مؤقف ہے کہ اگر ہجرت کے  موجودہ رجحانات برقرار رہے،  تو آنے والی دہائیوں میں یورپ کی آبادی، ثقافت اور سماجی شناخت میں بڑی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف کئی  ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کی معیشت، صنعت اور فلاحی نظام کو چلانے کے لیے بیرونی افرادی قوت ناگزیر ہے، اس لیے ہجرت کو مکمل طور پر روکنا  ناممکن اور غیر مفید ہے۔

گزشتہ  کچھ عرصے سے یورپ اور بالخصوص جرمنی  میں قیام کے دوران میں   اس حوالے سے    میرا تاثر یہ  ہے کہ  یورپی لوگوں کا تبدیلی کا  یہ   خدشہ  بے بنیاد نہیں۔ میں نے صرف بڑے شہروں ہی نہیں بلکہ نسبتاً چھوٹے قصبوں، دیہات، ریلوے اسٹیشنوں، بسوں، ٹراموں، ہوائی اڈوں، شاپنگ سینٹروں اور جامعات میں بھی ایک بات مشترک دیکھی ہے کہ مقامی آبادی کے ساتھ مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگ ہر جگہ نمایاں طور پر  موجود  نظر آتے ہیں۔ ترک، عرب، شامی، عراقی، ایرانی، افغان، پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی، چینی، افریقی اور مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے افراد روزمرہ زندگی کا واضح  اور معتد بہ حصہ  ہیں۔ دو روز قبل کاسل کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے ایک پلیٹ فارم پر ٹرین کے انتظار کے دوران  میں نے غور کرکے اندازہ لگایا قریباً ڈیڑھ سو افراد میں سے  اکثریت ایسے افراد کی تھی جن کا پس منظر جرمن نہیں تھا۔ (واضح رہے کہ   یہ شناخت آسانی سے ہوسکتی ہے،  جرمن تو خیر الگ پہچانے ہی جاتے ہیں، میں نے تو اکثر انڈین پاکستانی ، بنگلہ دیشی   کا بھی درست اندازہ لگایا، اگرچہ ان میں امتیاز  عموما مشکل ہوتا ہے)۔

 ایک اور اہم  بات پاکستانیوں کی ہر  جگہ موجودگی ہے۔ دنیا کے جس حصے میں بھی جایے، پاکستانی کسی نہ کسی صورت ضرور مل جاتے ہیں۔ جرمنی  کی بات کریں تو یہاں کے مختلف شہروں، چھوٹے قصبوں، جامعات، ریلوے اسٹیشنوں، دکانوں، ریستورانوں اور صنعتوں  ہر ہر جگہ پاکستانی کمیونٹی موجود دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح بھارتی  کمیونٹی  کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے  اور پاکستان سے تو کہیں زیادہ۔ اور ترک  اور  شامی تو یہاں نہایت کثرت سے ہیں۔ پھر مڈل ایسٹ، افریقہ، ایشیا اور دیگر خطوں کے افراد کی  بھی ایک بڑی تعداد گزشتہ ایک دہائی میں یورپ کا رخ کر چکی ہے۔

 اس صورت حال کی دیگر وجوہ کے ساتھ ساتھ ایک اہم وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ جرمنی سمیت بیشتر یورپی ممالک میں شرحِ پیدائش کئی برسوں سے اس سطح سے کم ہے،  جو آبادی کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے۔ دوسری طرف اوسط عمر میں اضافہ ہو رہا ہے، یعنی بزرگ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے ،جب کہ نوجوان افرادی قوت نسبتاً کم ہو رہی ہے۔ نتیجتاً صنعت، صحت، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، زراعت اور دیگر شعبوں میں لاکھوں کارکنوں کی ضرورت پیدا ہوتی ہے، جسے پورا کرنے کے لیے حکومتیں بیرونِ ملک سے ہنرمند افراد اور بعض اوقات پناہ گزینوں کو بھی قبول کرتی ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سی امیگرنٹ برادریوں میں ابتدائی نسل کی شرحِ پیدائش مقامی آبادی سے نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، اگرچہ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ دوسری اور تیسری نسل میں یہ فرق بتدریج کم ہو جاتا ہے،  اور وہ مقامی آبادی کے قریب آ جاتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا  تو  شاید  قبل ازوقت ہوگا کہ موجودہ رفتار سے مقامی آبادی لازماً  تبدیل  ہو جائے گی، لیکن یہ کہنا حقیقت سے بعید نہیں کہ یورپ کی نسلی، مذہبی اور ثقافتی ساخت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ  متنوع ہو رہی ہے اور آیندہ تیس یا چالیس برس بعدکم ازکم  آبادی کے اعتبار سے شاید یورپ آج سے کافی مختلف ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں