بچوں کے کینسر سے آگاہی کے مہینے کے موقع پر عالمی ادارۂ صحت نے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ کینسر میں مبتلا بچوں کو مؤثر علاج اور صحت یابی کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
اسلام آباد میں عالمی ادارۂ صحت کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق بچوں میں کینسر کی بہت سی اقسام قابلِ علاج ہیں اور عام ادویات، سرجری اور شعاعی علاج سمیت مختلف طریقوں سے بچوں کو صحت یاب کیا جا سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت پاکستان کی وزارتِ قومی صحت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت کام کر رہا ہے، جس کا مقصد بچوں کے کینسر کے علاج کے لیے معیار کی جانچ شدہ ادویات مفت فراہم کرنا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان کے چار اسپتال عالمی ادارۂ صحت کے ساتھ مل کر ضروری تیاریوں کے آخری مراحل مکمل کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ ان اسپتالوں کو 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک ادویات کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ مزید سات اسپتالوں کو 2027 کے دوران تکنیکی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے تیار کیا جائے گا تاکہ وہ بھی مستقبل میں ان ادویات کی فراہمی کے پروگرام کا حصہ بن سکیں۔
عالمی ادارۂ صحت کا طویل مدتی ہدف پاکستان کے ان تمام اسپتالوں تک مفت اور معیاری ادویات پہنچانا ہے جہاں بچوں کے کینسر کا علاج کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کے نمائندے ڈاکٹر لوو ڈاپینگ نے کہا کہ ادارہ پاکستان کے ساتھ اس شراکت داری پر فخر کرتا ہے اور ہر بچے کو کینسر سے صحت یاب ہونے اور صحت مند زندگی گزارنے کا موقع دینے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔