سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ نے اٹارنی جنرل پاکستان کی استدعا پر فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔
اٹارنی جنرل ،منصور عثمان اعوان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ، پہلے سندھ کینال کا مسئلہ زیر بحث رہا اور اب بھارتی اقدامات کے باعث مصروفیات رہی ہیں، جبکہ آج ان کی عالمی عدالت انصاف روانگی بھی منسوخ کرنی پڑی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سماعت کی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ، وہ تین نکات پر دلائل دینا چاہتے ہیں،پہلا نکتہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق ہوگا، جس پر وزارت دفاع کے وکیل، خواجہ حارث پہلے ہی دلائل دے چکے ہیں،دوسرا نکتہ مرکزی کیس کے دوران کروائی گئی یقین دہانیوں سے متعلق ہوگا، جبکہ تیسرا نکتہ ملٹری ٹرائل کا سامنا کرنے والوں کو اپیل کا حق دینے سے متعلق ہوگا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ، ملٹری ٹرائل میں اپیل کا حق دینا ایک پالیسی معاملہ ہے اور وہ اس پر حکومتی ہدایات لے کر عدالت کے سامنے مزید گزارشات رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ، ملٹری ایکٹ کی متعلقہ شقیں 1967 سے موجود ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ، پالیسی معاملات پارلیمنٹ کا اختیار ہیں، عدالت نے صرف کیس کے دائرے میں رہ کر معاملہ دیکھنا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ، اگر سول نظام ناکام ہو چکا ہے تو تمام کیسز فوجی عدالتوں کو بھیج دیے جائیں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ، دلائل مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ، وہ 45 منٹ میں دلائل مکمل کر لیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 مئی تک ملتوی کر دی۔