گنا اور گناہ

موت برحق ہے اور یقینامعبود برحق کی مشیت سے ہم انسانوں کی ارواح قبض ہوں گی لیکن ہماری وفات کاوقت اورمقام ہمارے علم میں نہیں،اللہ ربّ العزت کی پاک اوربلندبارگاہ میں صمیم قلب سے دعا ہے ہم اسلام کی حالت میں زندہ رہیں اورہمیں ایمان پراستقامت اورانتہائی نرمی والی موت اوراس وقت کلمہ طیبہ کاورد کرنا نصیب ہو۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ زمینی وآسمانی آفات وبلیات،شیاطین وجنات اوردلخراش اموات سے ہماری حفاظت فرمائے۔

ہم پل پل اپنے انجام اورانتقال کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہنوز ہماری دنیا کوہمارے دین پرغلبہ حاصل ہے،ہم دین کی قیمت پردنیا سمیٹ جبکہ دوسروں کے حقوق ہڑپ کر رہے ہیں۔ہم نے زمین پر عارضی محلات کیلئے بہشت میں اپنے ابدی محلات کوداؤپرلگادیاہے۔ انگلش زبان اورکلچر سیکھتے سیکھتے ہماری نسلیں عربی زبان اوراسلامی روایات کی قدروقیمت فراموش کربیٹھیں ورنہ قرآن مجید اورنماز کی مدد سے دین کا پیغام اورسرورکونین رسول اللہ خاتم الاانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ واصحبہٰ وبارک وسلم کامقام سمجھنا آسان ہوجاتا۔اب بھی وقت ہے ریاست مسلمان طلبہ وطالبات کیلئے مغربی” نہیں بلکہ "عربی” زبان کو ناگزیر قراردے، انگلش زبان منتخب کرنے کااختیار بھی دیاجائے لیکن عربی زبان ہرصورت پڑھنا ہوگی۔

ان شاء اللہ بہشت میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ عربی میں بات کیا کریں گے۔ اسلامی ریاست اورمعاشرت میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم مجموعی طورپر ہم شرعی احکامات سے نابلد ہیں،یادرکھیں دین فطرت کے بارے میں ادھوری باتوں سے بات نہیں بنے گی۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں ارشادفرمایا ہے،” اے اہل ایمان! اسلام میں داخل ہوجاؤپورے کے پورے اورشیطان کے نقش قدم پر نہ چلووہ تویقینا تمہارا بڑا کھلا دشمن ہے "۔اسلام میں داخل ہونے کیلئے اپنے اپنے قلوب کواسلام کے نصاب سے سیراب کریں۔ اِسلام کوانتہائی منظم انداز سے اپنے اندرداخل کریں جوہمارے افکار وکردار سے جھلکتا ہو۔مغربی جمہوریت،مغربی طرز معاشرت اورمغربی طرز معیشت سے سوفیصد نجات تک پاکستان اورپاکستانیوں کوسچا نجات دہندہ نہیں ملے گا۔کوئی ناسور،سوراور "سود” کسی مسلمان کیلئے "سودمند” نہیں ہوسکتا،” سود” کے ساتھ معاشی استحکام کاخواب دیکھنا "بے سود” ہے۔اسلام آباد میں جامعہ مسجد شہید کر نا اسلام کی خدمت نہیں،اسلام آباد میں سرکار کی مرضی ومنشاء سے جواخانہ اورشراب خانہ کھلنا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے، انہیں فوری بندکیاجائے۔

"اِسلام” میں شراب کی اجازت نہیں تو”اِسلام آباد” کس طرح اجازت دے سکتا ہے۔اِسلام آباد میں اِسلام کے منافی ہراقدام ناقابل فہم اورناقابل برداشت ہے۔ جامع مسجد کی شہادت پرشہریوں کاغم وغصہ اوران کامضطرب یامشتعل ہونا فطری ہے،اِسلام آباد کی شاہراہوں پرباریش شہریوں کے اجتماع یا پرامن احتجاج کوانڈراسٹیمیٹ اورمس ہینڈل نہیں کیاجاسکتا تھا۔دنیا کے مہذب ملکوں میں ایک شجر سایہ دار بچانے کیلئے شاہراہوں کارخ تبدیل کردیا جاتا ہے لہٰذاء اِسلام آبادمیں کوئی بھی نام نہادمنصوبہ کسی جامعہ مسجد سے مقدم نہیں ہوسکتا۔

آپریشن بنیان المرصوص کے دوران دشمن ریاست پر براہ راست کاری ضرب لگانیوالے فوجی حکام،پاک فضائیہ کے شیردل شاہین اورفوجی جوان بجاطورپرقومی اعزازات اوربیش قیمت انعامات کے مستحق ہیں۔تاہم وفاقی وزراء میں مراعات کے ساتھ ساتھ سرکاری اعزازات کی بندربانٹ پر رنجیدہ طبقات کے سنجیدہ اعتراضات نے انہیں بے وقعت کردیا ہے،یادرکھیں سرکاری اعزازات ملنے کے باوجود مخصوص افراد عزت سے محروم رہیں گے۔کوئی ایساکام کریں جس پرلوگ انہیں عزت دیں،ہم وطنوں سے ملنے والی عزت سے بڑا کوئی اعزازنہیں ہوسکتا۔ایک طرف سرکاری مراعات اوردوسری طرف ان وزراء کے نام مختلف سیاسی تنازعات میں آنے کے باوجود انہیں سرکاری اعزازات دینا تضادات سے خالی نہیں۔وزیروں اورمشیروں نے بیانات کے سوا کچھ نہیں کیا،اوریوں بھی وہ اپنے اس کام کی بھاری تنخواہ وصول کرتے ہیں توپھر ان کیلئے سرکاری اعزازات کیوں۔راقم کے نزدیک وہ لوگ ان اعزازات کے زیادہ مستحق ہیں جوکسی مالی اورسیاسی مفاد کے بغیر ریاست پاکستان کے وقار اورقومی مفادات کی حفاظت کیلئے کام کرتے یاوہ کردارجوریاست کی سا لمیت کیلئے اپنی سلامتی داؤپرلگاتے ہیں۔

مقرو ض پاکستان کے ارباب اقتدارواختیار انتہائی امارت کے باوجود سرکاری اعزازات کی آڑمیں اپنی اپنی ذات کیلئے مزیدمراعات حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔یہ مقتدر لوگ سرکاری اعزازات کیلئے اپنااپنانام تجویز اورپھر اس کی تائید بھی خودکرتے ہیں۔ہوشربا مہنگائی کی ستائی عوام نے حکمران اشرافیہ کی حالیہ خودستائشی کوہرگزپسند نہیں کیا،شعبدہ بازی سے شہرت ضرور ملتی ہے لیکن عزت نہیں۔ایک طرف عوام کی محرومیاں اوردوسری طرف حکمر ان اشرافیہ کی تنخواہوں کا کئی "گنا”بڑھ جاناایک ایساسیاسی” گناہ” ہے جس کیلئے انہیں معاف نہیں کیاجاسکتا۔سیاسی وفاداری کی بنیاد پرملنے والے اعزازات قبراورحشر میں کام نہیں آیاکرتے۔

محشر میں کامیابی کیلئے اپنی اپنی موت کایاد رکھیں اورقبورمیں سوال وجواب کی تیاری کریں۔بدقسمتی سے دین کی بجائے عارضی دنیا کوکامیابی کامعیارسمجھ لیا گیاہے،ظہوراسلام کے وقت دین سیکھنا یقینا دشوار تھا لیکن عہدحاضر میں آسان ہے،دین سے دوری کے نتیجہ میں ہم اجتماعی مقصد اورمنزل سے دورہورہے ہیں۔ بدقسمتی سے ِاسلامی ریاست میں بھی اِسلامیت،اِنسانیت اورپاکستانیت کا ہماری ترجیحات میں شمار نہیں ہوتا۔اِسلامی معاشرے میں اِمام ہرباربلندآواز کے ساتھ نمازعیدین اورنمازجنازہ کی نیت جبکہ ہم میں سے متعدد مقتدی غلطیاں دہراتے ہیں۔میت کی تجہیزوتدفین کیلئے بھی اِمام سے مددلی جاتی ہے،اس کے باوجود ہمارا معاشرہ علماء کی عزت نہیں کرتا۔ہم اپنے بچوں کو "بچپن "میں شہزادوں،پریوں اوربھوتوں کی کہانیاں توسناتے ہیں لیکن” پچپن "تک بھی ہمارا دامن دین سے خالی رہتا ہے۔ہم اپنی اوراپنوں کی تعلیم وتربیت کیلئے دین فطرت اِسلام کے بنیادی موضوعات پرسیرحاصل انداز میں بات نہیں کرتے۔بچوں کی ناپسندیدہ عادات نہیں چھڑاتے،انہیں بیہودہ سرگرمیوں سے نہیں روکتے،انہیں باجماعت نمازکاعادی نہیں بناتے۔

اب ہم مادرپدرآزادی کے نام پربچوں کونصیحت اوران کی تربیت نہیں کرتے، قوم کے بیٹوں اوربیٹیوں کوسوشل میڈیا کے رحم وکرم پرچھوڑدیا گیا ہے۔ مہنگائی کے روگ سے عام لوگ ہلکان ہورہے ہیں لیکن بے حیائی کے سیلاب سے کوئی پریشان نہیں۔ماؤں کی آغوش سے زیادہ کوئی بچوں کیلئے موزوں تربیت گاہ نہیں ہوسکتی لیکن جوماں خوداِسلامی تعلیمات سے محروم اورسوشل میڈیا نامی منشیات کی عادی ہووہ اپنے بیٹوں اوربیٹیوں کوکیاتربیت دے گی۔ہم نے” پڑھی لکھی ماں اورپڑی لکھی قوم” کافلسفہ فراموش کردیاہے۔اس بدترین فتنوں اور بدنام زمانہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بچوں کی معلومات کو بیڈٹچ اورگڈٹچ تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں ہروہ بات بتاناہوگی جو ان کی اصلاح،فلاح، بہبود اوربقاء کیلئے ناگزیر ہے۔

دنیا کی رنگینیوں کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتے دوڑتے ہم اپنے دین فطرت سے بہت دور نکل جاتے ہیں،ہم دنیا میں کامیابی کیلئے انتہائی بیتابی کامظاہرہ کرتے ہوئے بہت کچھ سیکھتے اوردوسروں کاحق چھینتے ہیں لیکن ہمارے قلوب میں دین سے سرشاری کیلئے بیقراری کافقدان ہے۔جوان عمر میں انسان کے جذبات کا”شور”اس کے اندر” شعور” کوعارضی طورپردبا دیتاہے۔وہ اس شورمیں اپنے ضمیر کی آواز تک نہیں سنتا لیکن جس عمر میں شعور بیدار ہوتا اوراُس کاضمیر اُسے جھنجوڑتا ہے توپھرجب اُسے اپنی بدکاریاں اورسیاہ کاریاں شدت سے یادآتی ہیں تو تب پچھتاو ے کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا۔

انسان کی تدبیر سے اس کی تقدیر نہیں بدل سکتی لیکن صدقات اوردعاؤں سے بلاؤں کارخ موڑاجاسکتا ہے۔محنت کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن کسی کومقررہ وقت سے پہلے اورقسمت سے زیادہ نہیں ملتا۔جوکچھ قسمت میں ہووہ بسااوقات محنت ومشقت کے بغیر بھی انسانوں کو ملتے ہوئے دیکھا گیا ہے، قدرت کی عنایات کے اپنے انداز ہیں۔ ہماری "خطاؤں "کے باوصف اللہ ربّ العزت کی "عطاؤں "کاسلسلہ نہیں رکتا تاہم بڑی عمر میں ہمارے”گناہ” کابوجھ کئی "گنا” بڑھ جاتا ہے۔زنا اورگناہ کاراستہ فناکی بندگلی میں کھلتا ہے،گناہوں سے نجات کیلئے شہرخموشاں میں کچھ دیرخاموش بیٹھا اوراس دوران وہاں گہری خاموشی میں ہونیوالی ہرسرگوشی کوسناکریں،اس سے آپ کے اندر کاشوریقینا شعور میں بدل جائے گااورآپ کی کایا پلٹ جائے گی۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں