پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر انڈیا سرحد عبور کرنے کی اجازت دے تو وہ اپنے شہریوں کو واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس لانے کے لیے تیار ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ واہگہ بارڈر مستقبل میں بھی پاکستانی شہریوں کے لیے کھلا رہے گا۔
ترجمان نے انڈیا کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنے کے فیصلے کو سنگین انسانی مسئلہ قرار دیا، جس کے باعث کئی بیمار افراد کو اپنا علاج ادھورا چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔ مزید براں، خاندانوں کے بچھڑنے اور بچوں کے والدین سے جدا ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے یاد دہانی کرائی کہ واہگہ اٹاری بارڈر عبور کرنے کی آخری تاریخ 30 اپریل 2025 تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انڈین حکام اٹاری میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو اپنی جانب سے سرحد پار کرنے کی اجازت دیتے ہیں، تو پاکستان ان کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل کر دیا اور پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا۔ جواباً، پاکستان نے بھی انڈین شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا اور اپنی فضائی حدود انڈین ایئرلائنز کے لیے بند کر دی، نیز شملہ معاہدے سے نکلنے کی دھمکی بھی دی۔
سعودی عرب، ترکیہ اور امریکہ جیسے متعدد ممالک نے دونوں ممالک کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔