وٹامن D کی سطح بڑھانے والی 5 نباتاتی غذائیں

یہ واحد وٹامن ہے جسے انسانی جسم مکمل طور پر خود پیدا کرتا ہے، بشرطیکہ مناسب مقدار میں سورج کی روشنی میسر ہو۔

جدید طرز زندگی کے سبب شہری آبادی کے اکثر لوگوں کے لیے وٹامن ڈی تشویش کا سبب بن گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی کمی صحت پر سنگین اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے میڈیکل اسٹوروں پر مختلف گولیاں اور قطرے دستیاب ہیں جو فوری علاج کا تاثر دیتی ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی وہ واحد وٹامن ہے جو جسم خود تیار کر سکتا ہے، بشرطیکہ انسان مناسب وقت تک سورج کی روشنی میں رہے۔ اگرچہ سورج کی روشنی اس کا بہترین ذریعہ ہے، مگر خوراک بھی اس کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

غیر گوشت خور افراد کے لیے جو مچھلی یا حیوانی ذرائع سے وٹامن ڈی حاصل نہیں کر سکتے، ماہرین نے چند نباتاتی طریقے تجویز کیے ہیں :

1 – دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات
بہت سے ممالک میں دہی، پنیر اور پیک شدہ دودھ کی مصنوعات میں وٹامن ڈی شامل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سادہ مگر مؤثر اقدام ہے جو روزانہ ایک گلاس دودھ یا ایک پیالہ دہی کو قیمتی غذائی ذریعہ بنا دیتا ہے۔

2 – کھمبیاں یعنی مشرومز
کھمبیاں سورج کی روشنی کے زیرِ اثر وٹامن ڈی پیدا کرتی ہیں، بالکل انسانی جلد کی طرح۔ لیکن ہر قسم کی کھمبی میں اس کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔ شیتاکے، مائٹاکے اور پورٹو بیلو جیسی اقسام میں وٹامن ڈی زیادہ پایا جاتا ہے، خاص طور پر اگر انھیں دھوپ میں خشک کیا جائے یا الٹرا وائلٹ روشنی میں اُگایا جائے۔ اس کے برعکس عام بٹن مشروم جو بند جگہوں پر اگائے جاتے ہیں، اس وٹامن سے تقریباً خالی ہوتے ہیں۔ کھمبیوں میں اینٹی آکسیڈنٹس جیسے سیلینیم اور ایرگوتھیونین بھی موجود ہوتے ہیں جو مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں۔

3 – نباتاتی دودھ
سویا، بادام اور جئی کے دودھ میں عموماً وٹامن ڈی کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ سبزی خور افراد کے لیے ایک آسان متبادل ہے۔ کئی برانڈز اس میں کیلشیم بھی شامل کرتے ہیں تاکہ وٹامن ڈی کے ساتھ جذب زیادہ مؤثر ہو۔

4 – باجرا (راگی)
بھارت کی روایتی غذاؤں میں شامل باجرے یا راگی کو کیلشیم اور آئرن سے بھرپور جانا جاتا ہے۔ سورج میں خشک یا اُگائی گئی راگی میں وٹامن ڈی کی تھوڑی لیکن اہم مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔ پاکستان میں باجرے کے آٹے کی بنی روٹی کا رواج ہے خاص کر سردیوں میں لوگ ساگ کے ساتھ اس کا استعمال کرتے ہیں۔

5 – ناشتے کے لیے وٹامن ڈی کے ساتھ اضافہ شدہ اناج
بازار میں دستیاب سیریلز جنھیں عموماً “صحت بخش غذا” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ان میں زیادہ تر وٹامن ڈی کا اضافہ کیا گیا ہوتا ہے۔ اگرچہ بنیادی طور پر اناج میں یہ وٹامن موجود نہیں ہوتا، مگر اس تدبیر سے یہ بچوں اور مصروف بالغوں کے لیے ایک بھروسہ مند ذریعہ بن جاتا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ سورج کی روشنی کے ساتھ ساتھ مناسب خوراک بھی وٹامن ڈی کی کمی پر قابو پانے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں