ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے اعلان کیا ہے کہ اندیجان ریجن میں تعمیر ہونے والے نئے شہر کا نام مغل سلطنت کے بانی، عظیم مفکر، شاعر اور مدبر، ظہیرالدین محمد بابر کے نام پر رکھا جائے گا۔ یہ فیصلہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے کروڑوں افراد کے دلوں کو چھو جانے والا ہے، کیونکہ بابر نہ صرف ازبکستان بلکہ پاکستان میں بھی تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے ایک محبوب شخصیت ہیں۔
صدر مرزائیوف نے بابر کو تیموری نشاۃ ثانیہ کا سچا وارث قرار دیا، اور کہا کہ وہ سائنس، ادب، ثقافت اور فنون لطیفہ کے سرپرست تھے جنہوں نے اپنی بے مثال میراث سے دنیا بھر میں ازبک قوم کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ بابر سٹی کا قیام دراصل ان کے خواب کی علامتی تعبیر ہے۔
اندیجان، جو بابر کا جائے پیدائش ہے، ازبکستان کے گنجان آباد ترین علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں ملک کی صرف 1 فیصد زمین پر 10 فیصد آبادی رہتی ہے۔ شہری دباؤ کم کرنے اور جدید طرزِ زندگی کی فراہمی کے لیے 2021 میں حکومت نے ایک وسیع منصوبے کے تحت یہاں ایک نیا شہر بسانے کا فیصلہ کیا۔ یہ شہر 4,000 ہیکٹر غیر استعمال شدہ زمین پر 8 مراحل میں تعمیر ہو رہا ہے۔
اب تک یہاں 63 رہائشی بلاکس، 1680 طلبہ کے لیے جدید اسکول، نرسری، طبی مرکز، ہلکی صنعت کا ادارہ، سستی رہائش کا مرکز، اور بنیادی ڈھانچہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے نیا ذخیرہ آب اور تقسیم مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔
بابر سٹی کو ایک جدید، ٹیکنالوجی سے آراستہ، مگر ثقافتی و روحانی اقدار سے جُڑا شہر بنایا جا رہا ہے۔ یہاں ایک جامع تعلیمی کمپلیکس ہوگا، جس میں اسکول، نرسری، یونیورسٹی، میوزیم، لائبریری، اور آئی ٹی پارک شامل ہوں گے، جبکہ عالمی معیار کا اسپورٹس کمپلیکس بھی تعمیر کیا جائے گا۔
ماحولیاتی اور تفریحی پہلوؤں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ “ینگے ازبکستان پارک” 19 ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جہاں 10 ہزار سے زائد درخت لگائے گئے ہیں، اور ایک شاندار ایمفی تھیٹر بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ “وطن پرور پارک” میں “وطن سے عہد” یادگار، وطن پرستی کا میوزیم اور ثقافتی تقریبات کے مقامات ہوں گے۔
شہر کے سب سے بلند مقام پر ظہیرالدین محمد بابر کا عظیم الشان مجسمہ تعمیر کیا جائے گا، جو ان کی روحانی وطن واپسی کی علامت ہوگا۔
صدر مرزائیوف نے نوجوانوں کو علم، جدوجہد اور محنت کی تلقین کرتے ہوئے کہا: ازبکستان کے نوجوان باصلاحیت اور قابل ہیں۔ صلاحیت اُس وقت ابھرتی ہے جب محنت کی جائے۔ علم حاصل کریں اور آگے بڑھیں، تب ہی آپ کا کل روشن ہوگا”۔
بابر سٹی کے قیام کے لیے 250 ملین ڈالر کا خصوصی ترقیاتی پروگرام منظور کیا گیا ہے۔ مکمل ہونے پر یہ شہر 4 لاکھ 10 ہزار افراد کا گھر بنے گا اور زندگی، تعلیم و ترقی کے مواقع فراہم کرے گا۔
یہ منصوبہ صرف تعمیراتی کامیابی نہیں بلکہ ایک عظیم ماضی کو خراج اور مشترکہ مستقبل کی نوید بھی ہے۔ بابر کی فن، شاعری، فنِ تعمیر اور حکمرانی کی میراث برصغیر کی تاریخ کا اہم حصہ ہے، اور ازبکستان کا یہ اقدام پاکستان اور ازبکستان کے درمیان گہرے ثقافتی رشتے کا مظہر ہے۔
صدر نے کہا: جیسا کہ سب جانتے ہیں، جہاں بھی بابر رہے، انہوں نے ہمیشہ اپنی سرزمین کو یاد رکھا۔ آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کا خواب پورا ہوا — گویا وہ اپنے وطن واپس آ گئے ہوں۔ یہ ایک تاریخی دن ہے، جس پر ہم سب کو مبارک ہو۔”