ازبکستان اور چین نے دانشورانہ ملکیت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے دو نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدے جنیوا میں عالمی ادارہ برائے دانشورانہ ملکیت، ڈبلیو آئی پی او، کی 68ویں اسمبلیوں کے دوران طے پائے۔
اس موقع پر ازبکستان کے نائب وزیرِ انصاف اور قومی دانشورانہ ملکیت دفتر کے سربراہ مظرف اکراموف نے چین کی نیشنل انٹلیکچوئل پراپرٹی ایڈمنسٹریشن کے کمشنر شین چانگ یو سے ملاقات کی۔
ملاقات میں پیٹنٹس، ٹریڈ مارکس اور صنعتی ڈیزائنز کے قانونی تحفظ سے متعلق تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ دونوں فریقوں نے پیٹنٹ جانچ کے عمل کو بہتر بنانے، تجربات کے تبادلے اور دانشورانہ ملکیت کے ماہرین کی پیشہ ورانہ تربیت پر بھی گفتگو کی۔
ملاقات کے بعد ازبکستان کی وزارتِ انصاف اور چین کی نیشنل انٹلیکچوئل پراپرٹی ایڈمنسٹریشن کے درمیان دانشورانہ ملکیت کے شعبے میں تعاون کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
اس کے علاوہ پیٹنٹ پروسیکیوشن ہائی وے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے بھی ایک الگ معاہدہ کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد پیٹنٹس کی جانچ کے عمل کو تیز اور زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
معاہدوں کے تحت ٹیکنالوجی اور انوویشن سپورٹ سینٹرز کو وسعت دی جائے گی، پیٹنٹ ماہرین کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے گا، اور دانشورانہ ملکیت کو کاروباری اور معاشی استعمال میں لانے کے لیے تعاون بڑھایا جائے گا۔
ازبکستان کی وزارتِ انصاف کے مطابق یہ معاہدے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط کریں گے اور ازبکستان میں ٹیکنالوجی، جدت اور دانشورانہ ملکیت کے نظام کو فروغ دینے میں مدد دیں گے۔