ازبکستان کی تاریخ غلامی اور آزادی کی ایک طویل داستان ہے۔ صدیوں پہلے یہ خطہ تیموری سلطنت کا علمی و ثقافتی مرکز تھا، لیکن انیسویں صدی میں روسی افواج وسطی ایشیا میں داخل ہوئیں اور یہ عظیم سرزمین رفتہ رفتہ اپنی خودمختاری کھو بیٹھی۔ سوویت یونین کے قیام کے بعد ازبکستان کو ایک زرعی کالونی میں بدل دیا گیا۔ کپاس کی زبردستی پیداوار، وسائل کی لوٹ مار اور ثقافتی شناخت کو مٹانے کی کوششیں، یہ سب کچھ دہائیوں تک جاری رہا۔ ازبک زبان کو دبایا گیا، تاریخ کو مسخ کیا گیا، اور عوام کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیا گیا۔لیکن ہر غلامی کے دور میں آزادی کی جوت کبھی بجھتی نہیں۔ ازبک عوام نے بھی اپنے دلوں میں یہ خواب زندہ رکھا۔ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں جب سوویت یونین کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی تو یہی خواب عملی شکل اختیار کرنے لگا۔ عوام نے اپنے معاشی اور سیاسی مسائل پر کھل کر آواز اٹھائی۔ جون 1989ء میں اندیجان کا واقعہ اسی جدوجہد کا نقطۂ آغاز تھا۔ کسان اور مزدور جب معاشی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کے لیے نکلے تو ان کے لبوں پر صرف روٹی اور روزگار کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ وہ غلامی سے نجات اور اپنے وطن کی آزادی کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ سوویت فوج نے ان مظاہروں کو سختی سے کچل دیا۔ کئی لوگ جاں بحق ہوئے، سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ مگر ان قربانیوں نے آزادی کی تحریک میں نئی جان ڈال دی۔ یہ واقعہ ازبک عوام کو یہ احساس دلانے کے لیے کافی تھا کہ آزادی صرف خواہش نہیں بلکہ ضرورت ہے۔
اندیجان کے بعد عوامی دباؤ بڑھتا گیا۔ سوویت پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں۔ طلبہ، دانشور، مزدور اور کسان سب ایک ہی مطالبے پر متحد ہونے لگے۔ 1990ء میں اسلام کریموف ازبکستان کے پہلے صدر منتخب ہوئے، اور یہ انتخاب بھی عوامی خواہشات کا مظہر تھا کہ اب ملک کو اپنی راہ خود متعین کرنی ہے۔اگست 1991ء میں ماسکو میں کمیونسٹ ہارڈ لائنرز کی بغاوت ناکام ہوئی تو گویا سوویت یونین کی عمارت زمین بوس ہونے لگی۔ یہی وہ وقت تھا جب وسطی ایشیا کی ریاستوں نے ایک ایک کر کے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ تاشقند میں 31 اگست 1991ء کو سپریم کونسل کا تاریخی اجلاس ہوا۔ علی شیر نوائی اوپیرا اینڈ بیلے تھیٹر کی عمارت میں ہونے والے اس اجلاس میں صدر اسلام کریموف نے اعلان کیا کہ “ازبکستان اب ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔” یہ الفاظ سنتے ہی ایوان کے باہر کھڑے ہزاروں لوگ خوشی سے نعرے لگانے لگے۔ “اوزبکستان! اوزبکستان!” کی صدائیں گونجنے لگیں، جھنڈے لہرائے گئے، لوگ ایک دوسرے کو گلے ملتے اور مبارکباد دیتے دکھائی دیے۔ اگلے دن، یکم ستمبر کو پہلا یومِ آزادی منایا گیا۔یہ آزادی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک عہد کی تکمیل تھی۔ یہ ان کسانوں اور مزدوروں کے لہو کی قیمت تھی جنہوں نے اندیجان میں قربانیاں دیں۔ یہ ان طلبہ اور دانشوروں کی جدوجہد کا نتیجہ تھا جنہوں نے اپنی زبان اور شناخت کو زندہ رکھنے کے لیے مشکلات برداشت کیں۔ اور یہ ان عوامی آوازوں کی گونج تھی جنہوں نے ماسکو کے جبر کے باوجود خاموش رہنے سے انکار کر دیا۔
آج جب ازبکستان اپنی آزادی کا دن مناتا ہے تو یہ صرف جشن کا دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ آزادی کبھی تحفے میں نہیں ملتی، یہ قربانی اور جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ ازبک عوام کی یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ غلامی سے آزادی تک کا سفر مشکل ضرور ہوتا ہے مگر ناممکن نہیں۔ یہی سبق آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشنی ہے، جو انہیں اپنی شناخت پر فخر اور اپنے مستقبل کے لیے امید فراہم کرتی ہے۔