ازبکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے 2026 سے 2028 تک مشترکہ ایکشن پلان منظور کر لیا ہے۔
یہ ایکشن پلان 28 جولائی کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والے ازبکستان، کرغزستان بزنس فورم کے دوران منظور کیا گیا۔ فورم کے اختتام پر دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کے متعدد معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔
کاروباری فورم میں دونوں ممالک کے سرکاری حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری نمائندوں نے شرکت کی۔ ازبکستان سے 115 کاروباری افراد جبکہ کرغزستان سے 95 کاروباری نمائندے فورم میں شریک ہوئے۔
فورم میں کرغزستان کے نائب چیئرمین کابینہ ارلست اکون بیکوف، قومی سرمایہ کاری ایجنسی کے ڈائریکٹر روشن بیک صابروف، وزیرِ معیشت و تجارت بخت صدیقوف اور ازبکستان کے وزیرِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لازیز قدرتوف نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران دوطرفہ تجارت میں اضافے، صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے اور مشترکہ پیداواری نظام قائم کرنے پر بات چیت کی گئی۔
حکام کے مطابق گزشتہ دس برس کے دوران ازبکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت میں سات گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اس کا حجم ایک ارب 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں مزید ڈیڑھ گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور تجارتی حجم 62 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
دونوں ممالک نے سالانہ دوطرفہ تجارت کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کا بھی اعادہ کیا ہے۔
فورم میں زرعی صنعت، ٹیکسٹائل، ادویات سازی، برقی آلات، توانائی، لاجسٹکس اور تعمیراتی سامان کی پیداوار سمیت مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر ازبکستان اور کرغزستان نے برقی آلات، بیجوں کی پیداوار، توانائی، صحت، آبی انجینئرنگ اور صنعتی زونز کی ترقی سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے۔
دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ نئے ایکشن پلان سے تجارت میں اضافہ، مشترکہ صنعتوں کا قیام اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔