ازبکستان کا یوم آزادی

قوموں کی تاریخ میں ایسے دن آتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے یادگار ہو جاتے ہیں۔ سب سے اہم وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزاد فضا میں سانس لیتی ہے۔ ازبکستان کے عوام کے لیے یکم ستمبر 1991ء ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ دن اُن طویل برسوں کی جدوجہد اور قربانیوں کا حاصل ہے جنہیں بھلایا نہیں جا سکتا۔

ازبکستان کی سرزمین کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کا مرکز رہی ہے ۔ سمرقند، بخارا، خوارزم اور تاشقند جیسے شہر نہ صرف اسلامی تہذیب و تمدن کے روشن چراغ ہیں بلکہ عالمی تاریخ میں بھی ان کی مثال نہیں ملتی۔ یہی وہ دھرتی ہے جہاں امام بخاریؒ نے صحیح بخاری جیسی عظیم کتاب تحریر کی، جہاں امام ترمذیؒ اور امام نسائیؒ نے علمِ حدیث کو فروغ دیا اور جہاں صوفیائے کرام نے امن و محبت کا پیغام پھیلایا۔ لیکن تاریخ کے نشیب و فراز میں یہ سرزمین روسی سلطنت اور پھر سوویت یونین کے قبضے میں چلی گئی۔

انیسویں صدی کے آخر میں روسی افواج نے وسطی ایشیائی ریاستوں پر قبضہ کیا۔ ازبک عوام کو زبردستی اپنی زمینوں سے محروم کیا گیا۔ کپاس کی پیداوار کے نام پر کسانوں کو غلامی کی زندگی گزارنی پڑی۔ مذہبی آزادی سلب کی گئی، مساجد بند کر دی گئیں، قرآن کی تعلیم پر پابندی لگا دی گئی۔ زبان اور ثقافت کو دبانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قوموں کی شناخت کو اس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ ازبک عوام کے دل میں اپنی شناخت اور آزادی کی تڑپ زندہ رہی۔

انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں سوویت یونین کے خلاف بغاوت کی چنگاریاں ابھرنے لگیں۔ تاشقند اور دیگر شہروں میں طلبہ اور نوجوان اپنی ثقافت اور زبان کے حق میں آواز بلند کرنے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا بھر میں سوویت یونین کے زوال کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔ وسطی ایشیا کی ریاستوں نے اس موقع کو غنیمت جانا۔اور پھر وہ دن آیا جس کا انتظار صدیوں سے تھا۔ 31 اگست 1991ء کو ازبک پارلیمنٹ نے آزادی کا اعلان کیا اور یکم ستمبر کو اسے سرکاری سطح پر “یومِ آزادی” قرار دیا گیا۔ تاشقند کی فضاؤں میں
پہلی مرتبہ ازبکستان کا پرچم بلند ہوا۔ اذانوں کی آواز اور عوام کی خوشی کے نعروں نے اس دن کو تاریخ کا سنہری باب بنا دیا۔آزادی کے بعد ازبکستان نے مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کیا۔ معیشت کمزور تھی، صنعت تباہ حال تھی، اور دنیا سے روابط محدود تھے۔ لیکن قوموں کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ مشکلات سے گھبراتی نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرتی ہیں۔ ازبک عوام نے بھی یہی کیا۔ اپنی قیادت کے زیرِ سایہ انہوں نے ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی۔ تعلیمی اداروں کو دوبارہ زندہ کیا گیا، مذہبی آزادی بحال ہوئی، اور ثقافت کو نئی زندگی ملی۔

آج ازبکستان وسطی ایشیا کا ایک ابھرتا ہوا ملک ہے۔ اس کے تاریخی شہر دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ افراسیاب ٹرین سے لے کر جدید تعمیرات تک، تاشقند اور سمرقند آج ترقی اور روایت کے حسین امتزاج کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ازبکستان کی خارجہ پالیسی خطے میں امن اور تعاون پر مبنی ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔یومِ آزادی صرف جشن منانے کا دن نہیں بلکہ یہ دن ایک عہد کی تجدید کا موقع ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ غلامی کے اندھیروں سے نکلنے کے بعد بھی اصل امتحان یہ ہے کہ آزادی کو کس طرح محفوظ رکھا جائے اور آنے والی نسلوں تک پہنچایا جائے۔ آج ازبک عوام اپنے پرچم کے سائے تلے یہی عہد کرتے ہیں کہ وہ اپنی محنت، علم اور یکجہتی سے ایک روشن مستقبل تعمیر کریں گے۔یقیناً یکم ستمبر صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک داستان ہے۔ ایک ایسی داستان جس میں غلامی کے دکھ، قربانیوں کی خوشبو، اور آزادی کی مسکراہٹ یکجا ہیں۔ یہ دن ازبک عوام کے لیے ہمیشہ امید، خود اعتمادی اور ترقی کی علامت رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں