ازبکستان عالمی فضائی مال برداری (ایئر کارگو) کے شعبے میں تیزی سے اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ یورپ اور ایشیا کے درمیان فضائی راستوں میں آنے والی تبدیلیوں کے بعد ملک نے کارگو کی نقل و حمل بڑھانے اور نئے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ازبکستان کے ہوائی اڈوں سے تقریباً 19 ہزار 800 ٹن کارگو اور ڈاک کی ترسیل ہوئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں پہلی سہ ماہی کی بہترین کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد یورپ اور ایشیا کے درمیان کئی فضائی راستے تبدیل ہوئے، جس سے وسطی ایشیا کے ممالک کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ ازبکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے ان تبدیلیوں سے فائدہ اٹھانے والے نمایاں ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ملک میں اس وقت پانچ مقامی کارگو ایئرلائنز خدمات انجام دے رہی ہیں، جن کے ذریعے فضائی مال برداری کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب دارالحکومت تاشقند میں نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی تعمیر جون 2026 میں شروع ہونے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر مجموعی طور پر ساڑھے چار ارب امریکی ڈالر تک لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد نیا ہوائی اڈہ سالانہ چار کروڑ مسافروں اور ایک لاکھ 29 ہزار ٹن کارگو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گا۔ ہوائی اڈے کے اطراف ایک جدید لاجسٹکس اور کاروباری شہر بھی تعمیر کیا جائے گا، جہاں گودام، صنعتی زون، دفاتر اور ہوابازی سے متعلق دیگر سہولیات قائم کی جائیں گی۔