اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مصنوعی ذہانت کی حکمرانی سے متعلق اقوام متحدہ کے پہلے عالمی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت موجودہ قوانین اور نگرانی کے نظام سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اس لیے دنیا کو اس ٹیکنالوجی کے لیے مشترکہ عالمی اصول اور مؤثر ضوابط بنانے کی ضرورت ہے۔
گوتریس نے کہا کہ جدت کے ساتھ حفاظتی حدیں بھی ضروری ہیں، کیونکہ طاقتور ٹیکنالوجی کو ذمہ دارانہ انداز میں چلانا لازم ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بچوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے نظام بچوں کی تعلیم، دوستی، ذاتی سوالات اور ذہنی دنیا تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے انہیں محفوظ بنائے بغیر بچوں تک رسائی دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک “چائلڈ سیفٹی پلیج” کی تجویز بھی دی، جس کا مقصد اے آئی سسٹمز کو بچوں کے لیے دستیاب کرنے سے پہلے ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ روئٹرز کے مطابق گوتریس نے ایسے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی جن میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کو نقصان دہ یا گمراہ کن مواد کی طرف لے جانے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔
جنیوا میں ہونے والا یہ عالمی مکالمہ کسی فوری معاہدے یا قانون سازی کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت کے خطرات اور مواقع پر مشترکہ سوچ پیدا کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ مکالمہ 6 اور 7 جولائی 2026 کو جنیوا میں منعقد ہو رہا ہے، جبکہ اس کا دوسرا اجلاس مئی 2027 میں نیویارک میں ہوگا۔
اس موقع پر ایک آزاد سائنسی ماہر پینل کی ابتدائی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں مصنوعی ذہانت کے بڑے فوائد کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ روئٹرز کے مطابق اس پینل کی مزید جامع رپورٹ اگلے سال جاری کی جائے گی۔
گوتریس نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ مصنوعی ذہانت کی طاقت چند ممالک اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر امریکا اور چین اس دوڑ میں نمایاں ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک اس ٹیکنالوجی تک رسائی میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد سب ممالک تک پہنچنے چاہییں، نہ کہ صرف چند طاقتور ریاستوں اور کمپنیوں تک محدود رہیں۔