ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے خوارزم خطے میں روزگار بڑھانے، عوام کی آمدنی میں اضافے اور غربت میں مزید کمی کے لیے مجوزہ اقدامات کا جائزہ لیا۔ صدر نے خوارزم کو غربت اور بے روزگاری سے پاک خطہ بنانے کے لیے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی ہدایت کی۔
ازبک صدارتی دفتر کے مطابق رواں سال کے آغاز سے خوارزم میں 162 ہزار افراد کی آمدنی میں اضافہ ہوا، 29 ہزار شہریوں کو مستقل روزگار ملا جبکہ 37 ہزار افراد کی غیر رسمی ملازمت کو باقاعدہ کیا گیا۔ اسی عرصے میں 29 ہزار خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 127 ہزار افراد کی مالی صورتحال بہتر ہوئی، جس کے نتیجے میں خطے میں غربت کی شرح 6.7 فیصد سے کم ہو کر 3.9 فیصد رہ گئی۔
خوارزم میں اس وقت 39 ہزار شہری بے روزگار ہیں جبکہ 102 ہزار افراد بیرونِ ملک محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق روزگار کے مواقع اور ملازمت کے خواہشمند افراد کی مہارتوں کے درمیان فرق ایک اہم مسئلہ ہے، جس پر صدر مرزایوف نے پیشہ ورانہ تربیت کو روزگار کی منڈی کی ضروریات کے مطابق بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
سال کے اختتام تک 18 ہزار کم آمدنی والے خاندانوں کے 81 ہزار افراد کو غربت سے نکالنے اور 39 ہزار بے روزگار شہریوں کو مستقل ملازمت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت صنعت، خدمات، سیاحت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور تعمیرات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ مائیکرو صنعتی مراکز میں 250 نئی کاروباری اکائیاں بھی قائم کی جائیں گی۔