ازبکستان اور پاکستان ظہیر الدین محمد بابر پر مشترکہ فلم بنانے کے لیے تیار

ازبکستان اور پاکستان ظہیر الدین محمد بابر کی زندگی پر مشترکہ تاریخی فلم بنانے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور میڈیا تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

ازبک خبر رساں اداروں کے مطابق، ازبک میڈیا وفد نے اسلام آباد میں پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کا دورہ کیا، جہاں فلم، ٹیلی وژن، دستاویزی پروگراموں اور ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے میں باہمی تعاون پر بات چیت ہوئی۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات کے عہدیدار آصف الرحمٰن خان نے وفد کو بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان کے فلم ساز بابر کی زندگی پر مشترکہ پروڈکشن کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فلم کا اسکرپٹ زیرِ غور ہے، جبکہ شوٹنگ کے مقامات اور فن کاروں کے انتخاب سے متعلق معاملات ابھی طے نہیں ہوئے۔

ملاقات میں پاکستانی حکام نے لاہور کے مغلیہ دور کے ثقافتی ورثے کا بھی ذکر کیا۔ بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور لاہور قلعہ ان عمارتوں میں شامل ہیں جو اس دور کی تعمیراتی روایت کی نمائندگی کرتی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان میڈیا تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس تعاون میں صحافیوں کے تبادلے، مشترکہ ٹی وی پروگرام، دستاویزی فلمیں، ڈیجیٹل مواد اور مشترکہ رپورٹنگ کے منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور ازبکستان کی نیشنل نیوز ایجنسی ازا کے درمیان رابطے موجود ہیں، جبکہ پاکستان ٹیلی وژن اور ازبکستان کی نیشنل ٹیلی وژن و ریڈیو کمپنی کے درمیان بھی تعاون کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

فروری 2026 میں صدر شوکت مرزیایوف کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دونوں ملکوں نے عظیم مغلیہ خاندان کے علمی، ثقافتی اور تعمیراتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے تعاون پر اتفاق کیا تھا۔

ممکنہ مشترکہ فلم کو اسی ثقافتی رابطے کا ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے بابر کی زندگی اور وسطی ایشیا و جنوبی ایشیا کے مشترکہ تاریخی رشتے کو نئی نسل تک پہنچایا جا سکے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں